رسائی کے لنکس

logo-print

آبی تنازعات پر پاک بھارت مذاکرات بلا نتيجہ ختم


بھارتی وفد نے پاکستان کے تحفظات پر اپنی حکومت کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے اور مزید بات چیت آئندہ اجلاس میں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انڈس واٹر کمشنرز کے آئندہ اجلاس کا شیڈول بعد میں طے ہوگا

پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے مذاکرات کے دو روز پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہوئے، جس میں دونوں ملکوں کے سندھ طاس کمشنر اور آبی ماہرین شریک ہوئے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنروں کے اجلاس میں اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق، دو روز میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے چار دور ہوئے، جن میں دونوں ممالک اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ’پکل ڈل ڈیم‘ اور ’لوئیر کلنائی‘ منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

پاکستاني انڈس واٹر کمشنر، سید مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دونوں منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

’پکل ڈل ڈیم‘ اور ’لوئر کلنئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس‘ سے پاکستان کو پانی کی کمی ہوگی۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’پکل ڈل پروجیکٹ‘ کی اونچائی میں کمی جبکہ ’لوئر کلنئی‘ منصوبے کے ڈیزائن میں بھی تبدیلی کرے۔

اطلاعات کے مطابق، پاکستان کے جواب میں بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔

بھارتي وفد کا مؤقف تھا کہ انہیں بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے، آبی ذخائر نہ ہونے سے پانی کی بڑی مقدار سمندر میں چلی جاتی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے باعث دریاؤں میں پانی کي کمی ہے۔ بھارتی

انڈس واٹر کمشنر پی کے سیکسینا کا مؤقف تھا کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بنانا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

انڈس واٹر کمشنرز مذاکرات میں بھارت نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کر دئیے، جبکہ ’پکل ڈل ڈیم‘ اور ’لوئر کلنئی‘ پر کام جاری رکھنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔

بھارتی وفد نے پاکستان کے تحفظات پر اپنی حکومت کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے اور مزید بات چیت آئندہ اجلاس میں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

انڈس واٹر کمشنرز کے آئندہ اجلاس کا شیڈول بعد میں طے ہوگا۔

پاکستان نے اس سے قبل بھی دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے بنائے جانے والے کشن گنگا ڈیم پر اعتراض اٹھایا تھا اور معاملہ عالمی عدالت تک پہنچا تھا جہاں پاکستان یہ معاملہ ہار گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے یہ ایک سو پندرہوں اجلاس تھا۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات رواں برس بھارت کے دارلخلافہ نیو دہلی میں ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG