رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے خلاف کسی کو ’درپردہ جنگ‘ کی اجازت نہیں دیں گے: راحیل شریف


جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کے ایجنڈا کا نامکمل حصہ ہے اور اُن کے بقول پاکستان اور کشمیر کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف درپرہ جنگ یا ’پراکسی وار‘ کے خلاف ہے اور کسی دوسرے ملک کو بھی پاکستان کے خلاف ’پراکسی وار‘ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ہے پاکستان کسی بھی طرح کے مذموم منصوبوں کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بیان بدھ کو اسلام آباد میں ’نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی‘ میں خطاب کے دوران دیا۔

اُنھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’ہمارے دشمن دہشت گردوں کی حمایت کر کے‘‘ مسلح تصادم کو ہوا دے رہے ہیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگوں کی حکمت عملی تیزی سے بدل رہی ہے، جس کے لیے سویلین اور عسکری تعاون بہت اہم ہو گیا ہے۔

فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے اقوام متحدہ کی قرار داد اور کشمیریوں کی توقعات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کے ایجنڈا کا نامکمل حصہ ہے اور اُن کے بقول پاکستان اور کشمیر کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ میں ملنے والی کامیابیوں کے بعد شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کو تیز کرنے کا موقع ملا ہے۔

ایک روز قبل پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان تمام حل طلب مسائل خاص طور پر تنازع کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

دریں اثناء بدھ کو بھارت کے لیے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اُنھیں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ تبدیلوں سے متعلق آگاہ کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری، احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

XS
SM
MD
LG