رسائی کے لنکس

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان سے متعلق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’ٹویٹ‘ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کے جس چہرے کی نشاندہی کی ہے ’’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف افغان دیہاتوں اور گھروں پر بمباری نہیں بلکہ افغانستان سے باہر (دہشت گردوں) کی پناہ گاہیں ہیں۔‘‘

حامد کرزئی نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے واضح بیان کو خوش آئند کہتے ہیں۔

سابق افغان صدر نے اپنے بیان میں تجویز کیا کہ نہ صرف افغانستان بلکہ خطے میں امن کے لیے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ امریکی طرف سے گزشتہ 15 سالوں میں 33 ارب ڈالر کے بدلے اُن کے ملک کو پاکستان کی طرف سے ’’دھوکا‘‘ ہی ملا۔

پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے پہلے ہی صدر ٹرمپ کے بیان کو سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اُدھر چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیئے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کی طرف سے کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں۔

تجزیہ کار ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر کے بیان پر کوئی بھی ردعمل سوچ سمجھ کر دینا چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ کوشش تو کی جاتی رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو لیکن اُن کے بقول اس میں اب تک کامیابی نہیں ملی۔

پاکستان میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے تعلقات اپنے پڑوسی ممالک سے بھی اچھے نہیں ہیں اور اس تناظر میں اسلام آباد کو کسی بھی ایسے ردعمل سے گریز کرنا چاہیے جو امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوریوں میں اضافے کا سبب بنے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG