رسائی کے لنکس

logo-print

تناؤ کے باوجود پاک امریکہ تجارت میں ریکارڈ اضافہ


سفیر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ-پاکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری، ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پائے جانے والے حالیہ تناؤ کے باوجود دوطرفہ تجارت میں بہتری آئی ہے۔

امریکی سفارت خانے سے منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق 2017ء میـں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت چھ ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

اسلام آباد میں تعینات امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل نے منگل کو امریکن بزنس کونسل (ای بی سی) آف پاکستان کے صدر کامران نشاط اور کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں امریکہ-پاکستان تجارتی و معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ماہرِ معاشیات اور تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ بعض معاملات پر ریاستوں کے درمیان اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی معاشی روابط نہیں رکنے چاہئیں۔

ان کے بقول، ’’نجی شعبے میں تعاون حکومت کی سطح پر رابطوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

ملاقات کے دوران سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط کرنےکے لیے امریکی کارپوریٹ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

اُنھوں نے امریکن بزنس کونسل کی طرفسے کاروباری اور سرمایہ کاری کی فضا کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا۔

سفیر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ-پاکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری، ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کے موقف میں دوریاں ہیں جو کہ تعلقات میں حالیہ تناؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر اب بھی اُن طالبان کی پناہ گاہیں ہیں جو افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں اور اُن کے خلاف پاکستان کو فیصلہ کن کارروائی کرنا ہو گی۔

جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ تمام دہشت گردوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور افغان طالبان کی حمایت کا الزام درست نہیں۔

ان اختلافات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے اور تعاون جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG