رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں بے روزگاری میں اضافہ


فنی تعلیم روزگار کا حصول آسان بنا دیتا ہے۔

روشن مغل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں صنعتیں اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمت ہی واحد ذریعہ روزگار ہے ۔ لیکن سرکاری ملازمت کا حصول سفارش اور مبینہ رشوت کے بغیر محال ہے۔

پاکستانی کشمیر کے فنی وتکنکی تربیت مہیا کرنے والے ادراے ٹیوٹا TAVTAکے چیئرمین ظفر نبی بٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں چھ فی صد فنی شرح خواندگی کے مقابلے میں یہاں یہ شرح 14 فی صد ہے۔

پاکستانی کشمیر میں تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی تعداد سرکاری اعدادوشمار کےمطابق 29 فیصد گریجویٹس بیروزگار ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے سرحدی قصبہ چکوٹھی کے 25 سالہ محمد سعید نے گریجویشن کے دوران پولیس میں ملازمت اختیار کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن بقول انکے رشوت نہ دینے کی وجہ سے وہ بھرتی نہ ہو سکے۔

انہوں نے خود کو ان تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی فہرست میں شامل کرنے کے بجائے بڑھئی کا کام شروع کردیا ۔جو انہوں نے دوران تعلیم اپنے والد سے سیکھ لیا تھا۔

محمد سعید کا کہنا ہے کہ ان کا کام بہت سخت ہے لیکن علاقے میں اس کام کے موقع بہت زیادہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت انکی مدد کرے اور انہیں تربیت فراہم کرے تو وہ اپنے کام کو اور زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں اور اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

ٹیوٹا کے چیرمین ظفربنی بٹ نے بتایا ہے کہ انکے ادارے نے ہزاروں کو جاب مارکیٹ کی طلب کے مطابق فنی کورسزز کے تربیت فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی ہے تاکہ بیروزگاری میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا 90 فیصد بجٹ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں لگتا ہے۔

پاکستانی کشمیر میں سرکاری ملازمین کی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے۔

پاکستانی کشمیر میں عمومی طور پر سرکاری بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اور پڑھے لکھے افراد سرکاری ملازمت سے ہٹ کر زراعت اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کو عار سمجھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG