رسائی کے لنکس

logo-print

احتساب عدالت نے نواز شریف کو تین دن کا استثنیٰ دے دیا


فائل فوٹو

نیب ریفرنسزمیں سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازکو مزيد تين دن کيلئے استثنٰی مل گيا۔ احتساب عدالت ميں بيگم کلثوم نواز کي ميڈيکل رپورٹ پيش کردی گئی۔ وکیل صفائی پانچویں روز بھی حتمی دلائل مکمل نہ کرسکے اور موقف اختیار کیا کہ پاناما کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ناقابل قبول شواہد پر مبنی ہے۔ لندن فليٹس کا نواز شريف سے کوئی تعلق نہيں۔

نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت سوموار کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ نواز شریف اور مریم نواز لندن میں موجودگی کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جبکہ کپیٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے موکل کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے متعدد اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا جب کہ ان کے گردے بھی کام نہیں کررہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو 13 جون کو قے آنے پر اسپتال منتقل کیا گیا اور انہیں 14 جون کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ کلثوم نواز کے گردے کام نہیں کر رہے اور متعدد اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے گردوں کی تھیراپی چل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کلثوم نواز کی صحت میں تین دن سے بہتری آئی ہے، ان کو اینٹی بائیوٹک ہٹا دی گئی ہے اور انہیں خوراک بھی دی جارہی ہے۔

خواجہ حارث نے نواز شریف اور مریم نواز کی سات دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس کی نیب پراسیکیوٹر نےمخالفت کی۔ تاہم، عدالت نے دونوں کو مزید تین دن کیلئے حاضری سے استثنٰی دے دیا۔

وکیل صفائی خواجہ حارث پانچویں روز بھی اپنے حتمی دلائل مکمل نہ کرسکے۔ عدالت میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں دبئی سے سعود یہ اسکریپ مشینری کی منتقلی کے حوالے سے بات کی گئی۔ نیب نے متحدہ عرب امارات کو ایم ایل اے لکھا جس کا یو اے ای گورنمنٹ نے جواب دیا، ان تمام چیزوں میں جے آئی ٹی نے اپنی رائے، تبصرے دیئے جو کہ ناقابل قبول شواہد ہیں، واجد ضیاء بیان میں رائے دے کر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ قطری کے دو خطوط کا نواز شریف سے کچھ لینا دینا نہیں۔ کسی اور کی پیش کردہ دستاویزات کا متن نواز شریف کے خلاف کیسے استعمال ہو سکتا ہے؟ جے آئی ٹی نے دو خطوط میں تضادات کی بات کی ہے۔ خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں، عدالت کا تھا۔ تفتیشی افسر رائے دے کر اثر انداز ہو رہا ہے۔ واجد ضیاء یہ خط تو پیش کر سکتے تھے مگر کوئی کمنٹس نہیں کر سکتے تھے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ قطری کے ساتھ ٹرانزیکشن کا نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں۔ نواز شریف کا تعلق ہی نہیں کیونکہ کاروبار ان کے والد میاں شریف کا تھا۔ نواز شریف پر جے آئی ٹی رپورٹ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، لیکن ان کا کوئی براہ راست جرم استغاثہ نے نہیں بتایا صرف شریف فیملی کا ذکر ہے۔ پورے بیان میں واجد ضیاء پہلے دستاویز کا متن پڑھتے پھر رائے دیتے رہے۔

کیس کی سماعت کل دوبارہ ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG