رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے چین سے ’ملٹی ٹریکنگ میزائل‘ پروگرام خرید لیا


پاکستان کا ’النصر‘ میزائل (فائل)

چینی حکام نے اکیڈمی آف سائنسز کی ویب سائیٹ پر جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ چین نے پاکستان کو اعلیٰ ترین ٹکنالوجی کا حامل طاقتور آپٹکل ٹریکنگ اینڈ مژرمنٹ سسٹم فروخت کیا ہے، جس سے پاکستان کو اپنے میزائل پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھاتے ہوئے MERV یعنی متعدد اہداف کو ایک ساتھ الگ الگ میزائلوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔ اور، اس کے ساتھ ہی دشمن ملک سے آنے والے میزائلوں سے دفاع بھی باآسانی کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں موجود معروف تھنک ٹینک میں جنوبی ایشیا پروگرام کے شریک ڈائریکٹر اور سینئر ایسوسی ایٹ، سمیر لالوانی نے ’وائس آف امریکہ‘ اُردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس ٹکنالوجی کا حصول امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے اگرچہ کسی قدر پریشانی کا باعث ہوگا۔ تاہم یہ کوئی گیم چینجر نہیں ہے‘‘۔

وجہ بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’’اس ٹکنالوجی کے حصول کے بعد پاکستان کو اپنے میزائل ڈیفنس کے نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے‘‘۔

تاہم، سمیر لالوانی نے کہا ہے کہ ’’اس سودے کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا مقصد چین کی طرف سے بھارت کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے خلاف پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس کے علاوہ چین امریکہ کو بھی ایک پیغام دے رہا ہے کہ وہ آسٹریلیا، جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر انڈو پیسفک خطے کیلئے جو چار ممالک پر مشتمل گروپ کی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہا ہے، چین اس گروپ کے ایک رکن بھارت کے خلاف پاکستان کی فوجی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر سکتا ہے‘‘۔

سمیر لالوانی نے کہا کہ ’’چونکہ اس ٹکنالوجی کا حصول بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ لہذا، اس اقدام سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیوں کا امکان نہیں ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس ٹکنالوجی کے ساتھ پاکستان کو انٹیلی جنس، نگرانی اور ہدف کے تعین کی جدید ترین ISR ٹکنالوجی بھی حاصل کرنی پڑے گی جس میں فی الوقت بھارت پاکستان سے آگے ہے۔

پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود نے ’وی او اے‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔

تاہم، اُنہوں نے کہا کہ ’’اس سے ایک حوالے خطرات بڑھتے جائیں گے کیونکہ پاکستان کی طرف سے اس صلاحیت کے حصول کے بعد بھارت بھی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے گا اور پھر پاکستان کیلئے مزید صلاحیت کے حصول کی ضرورت بڑھتی جائے گی۔ یوں، جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ میں مزید تیزی آئے گی‘‘۔

جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ ’’گزشتہ چند برسوں سے بھارت نے پاکستان کے خلاف جو مسلسل جارحانہ رویہ اپنایا ہوا ہے، پاکستان کے اس اقدام کو اس کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے‘‘۔

اُنہوں نے مغربی ممالک اور امریکہ سے کسی ممکنہ مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بھارت بھی اپنی فوجی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں، تو بیرونی دنیا کی طرف سے کسی مخالفت کا جواز پیدا نہیں ہوتا‘‘۔

چین کے ادارے CAS انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرونکس کے محقق ژینگ مینگ وائی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے حال ہی میں اس چینی ساختہ نظام کو استعمال کرتے ہوئے ایک فائرنگ رینج میں اپنے متعدد نئے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’’بھارت نے ایسے میزائل تیار کئے ہیں جن سے زیادہ طاقت کے بم کو لمبے فاصلے تک داغا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان MERV یعنی ایسے لانچنگ پیڈ بنانے پر توجہ دے رہا ہے جن سے ایک ہی وقت میں جوہری بموں سے لیس متعدد میزائل الگ الگ نشانوں کی طرف روانہ کئے جا سکیں‘‘۔

امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی نے اس ماہ کے شروع میں اطلاع دی تھی کہ پاکستان جنوری 2017 میں جوہری صلاحیت کے حامل ’ابابیل‘ میزائل کا پہلا تجربہ کر چکا ہے جو جنوبی ایشیا میں پہلا MERV لانچ تھا۔

چینی حکام کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چینی ماہرین کی ایک ٹیم نے حال ہی میں تین ماہ پاکستان میں گزارے جہاں اُنہوں نے چین سے خریدے گئے اس نئے نظام کی تنصیب اور اس کے استعمال سے متعلق پاکستانی ماہرین کو تربیت دی۔

چینی حکام نے کہا ہے کہ تجربے کے دوران اس نظام کی کارکردگی توقع سے بھی زیادہ اچھی رہی۔ اُنہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان نے اس نظام کیلئے چین کو کتنی رقم ادا کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG