رسائی کے لنکس

logo-print

سرگرم کارکنوں کی ٹوئٹس کے خلاف شکایات، حکومت کی تردید


ندا کرمانی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ٹوئٹر کی لیگل ٹیم کی طرف سے انہیں بھیجی گئی ای میل میں بتایا گیا ہے ان کی تین ٹوئٹس کو پاکستانی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر کو شکایت کی گئی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے انسانی حقوق کے لیے سرگرم دو پاکستانی خواتین کو آگاہ کیا ہے کہ ان کی بعض ٹوئٹس کے بارے میں انہیں سرکاری سطح پر شکایات ملی ہیں۔

ندا کرمانی اور ریما عمر نے اپنے ٹوئٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹوئٹر کی طرف سے انہیں ملنے والی ای میلز میں کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر کو پاکستانی حکام نے شکایت کی ہے کہ ان کی بعض ٹوئٹس ملکی قوانین کے خلاف ہیں۔

ندا کرمانی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ٹوئٹر کی لیگل ٹیم کی طرف سے انہیں بھیجی گئی ای میل میں بتایا گیا ہے ان کی تین ٹوئٹس کو پاکستانی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر کو شکایت کی گئی ہے۔

ندا نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔ دوسرے میں انہوں نے انتہائی قوم پرست ڈیتھ اسکواڈ کی تشکیل پر تنقید کی تھی جب کہ تیسری ٹوئٹ وہ ہے جس میں انہوں نے پی ٹی ایم کا دفاع کیا تھا۔

تاہم ندا کے بقول ٹوئٹر نے اپنے پیغام میں ان مخصوص قوانین کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے جن کی خلاف ورزی کا ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔

ندا نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ٹوئٹر کی طرف سے انہیں بھیجی گئی ای میل کا اسکرین شاٹ بھی شئیر کیا ہے جس میں ٹوئٹر نے انہیں بتایا ہے کہ کمپنی نے تاحال ان کے اکاؤنٹ سے پوسٹ ہونے والے اس مواد کی خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے جس کی شکایت اسے موصول ہوئی تھی۔

دوسری طرف سیاسی و سماجی امور کی تجزیہ کار اور وکیل ریما عمر نے بھی کہا ہے کہ انہیں بھی ٹوئٹر کی طرف سے ایک پیغام ملا ہے جس کے مطابق فوجی عدالتوں سے متعلق ان کی ایک ٹوئٹ کے بارے میں انہیں "سرکاری" سطح پر شکایت کی گئی ہے۔

اپنی اس ٹوئٹ میں ریما عمر نے فوجی عدالتوں کے طریقۂ کار کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔

ریما عمر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ خود حکام کے نزدیک آئین اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بات کرنا قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ریما عمر کے ٹوئٹ کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ٹوئٹر سے یہ شکایات ان کی حکومت نے کی تھیں۔

فواد چودھری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "قطعی طور پر یہ ایک علمی بحث ہے، حکومت کیوں اس بحث پر اعتراض کرے گی؟ اس موضوع پر ٹوئٹر کے ساتھ کوئی خط کتابت نہیں ہوئی ہے۔"

ریما عمر نے فواد چودھری کی وضاحت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وضاحت کے بعد کئی سوالات اٹھے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا ٹوئٹر ایسی ای میل خود سے کررہا ہے یا کوئی دھوکے باز حکومت کا نمائندہ بن کر یہ شکایات کر رہا ہے؟ یا ان کے بقول کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت کے علم میں لائے بغیر یہ شکایات کی جا رہی ہیں؟

انسانی حقوق کے دیگر سرگرم کارکنوں اور کئی صحافیوں نے بھی ٹوئٹر کی طرف سے ندا کرمانی اور ریما عمر کو نوٹس بھیجنے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق سے متعلق غیر سرکاری تنظیم بائٹس فار آل' سے وابستہ شہزاد احمد نے منگل کو کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قبل بھی لگ بھگ 10 پاکستانیوں کو ٹوئٹر کی طرف ایسے نوٹس مل چکے ہیں۔ ان کےبقول ایسے اقدامات سے سماجی میڈیا پر آزادی اظہار کی فضا محدود ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے دیگر سرگرم کارکنوں اور کئی صحافیوں نے بھی ٹوئٹر کی طرف سے ندا کرمانی اور ریما عمر کو نوٹس بھیجنے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹوئٹر کو پاکستان میں آزادیٔ اظہار کے خلاف کیے جانے والے مبینہ اقدامات میں فریق نہیں بننا چاہیے۔

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آرہے ہیں کہ حکومت آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہیں تاہم ان کے بقول حکومت سماجی میڈیا پر ریاست مخالف بیانیے کی تشہر کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG