رسائی کے لنکس

logo-print

تحصیلوں کے نام سرحد پار علاقوں پر رکھنے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا


تحصیل ہٹیاں بالا کے ایک شہری نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ پاکستان میں کسی بھی ادارے میں جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ تو بھارتی کشمیر کے شہری ہیں۔ اسکے علاوہ پولیس ناکوں پر شناخت کروانا مشکل ہو جاتا ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے ایک تحصیل کا نام تبدیل کر کے بھارتی کشمیر کے ایک قصبے کے نام پر رکھنے نے لوگوں کو مشکلات کا شکار کردیا ہے۔

سال 2016ء میں حکومت میں آنے کے فوراً بعد وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے تحصیل ہٹیاں بالا کا نام بدل کر اوڑی اور تحصیل لیپہ کا نام بدل کر کرناہ اور ضلع ہٹیاں بالا کا نام ضلع جہلم ویلی رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد ان علاقوں کے مکینوں نے قومی شناختی کارڈ سمیت تمام دستاویزات پر تحصیل ہٹیاں بالا اور لیپہ کی جگ تحصیل اوڑی اور کرناہ اور ضلع جہلم ویلی لکھوانا شروع کر دیا۔

حکومت کے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر عدالت نے ہٹیاں بالا اور لیپہ کا نام بحال رکھنے کا حکم دیا۔ تاہم، ہائیکورٹ نے ضلع ہٹیاں بالا کا نام ضلع جہلم ویلی ہی رہنے دیا؛ جسے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔

لیکن، حکومت کی طرف سے باقاعدہ مطلع نہ کرنے کی وجہ سے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے والے وفاقی ادارے نادرا کی طرف سے اب تک شناختی کارڈوں پر تحصیل اوڑی ہی لکھی جا رہی یے۔ اس کی وجہ سے علاقے کے مکینوں کو فوج میں بھرتی کے علاوہ کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحصیل ہٹیاں بالا کے ایک رہائشی کبیر حسین نے نام کی تبدیلی کے باعث پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ پاکستان میں کسی بھی ادارے میں جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ تو بھارتی کشمیر کے شہری ہیں۔ اسکے علاوہ پولیس ناکوں پر شناخت کروانا مشکل ہو جاتا ہے۔

تحصیل کے ایک تاجر، ممتاز کیانی نے کہا کہ ''نام تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ نادرا ابھی تک اوڑی لکھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے بچے فوج میں بھرتی نہیں ہو رہے''۔

ایک شہری، صغیر احمد نے بتایا کہ اوڑی کی وجہ سے اسکے دو بھائی فوج میں بھرتی نہیں ہو سکے۔

تحصیل کے قصبے چکوٹھی کے باسی محمد عارف نے بتایا کہ ''شناختی کارڈ پر اوڑی درج ہونے کی وجہ سے پاکستان میں چیکنگ کے دوران شک کا اظہار کیا جاتا ہے''۔

ضلع کونسل ہٹیاں بالا کے منتظم، فرید خان نے کہا کہ ''یہ معاملہ واقعی لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے''۔

ہٹیاں بالا سے قانون ساز اسمبلی کے رکن اور وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکڑ مصطفیٰ بشیر نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ پہلے تحصیل ہٹیاں کا نام اوڑی ہی ہوا کرتا تھا۔ اور اوڑی نام رکھنے کا مقصد منقسم علاقے کی پہچان برقرار رکھنا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ لوگ نیں مان رہے، اس لیے جلد ہٹیاں بالا کا نام بحال کر دیا جائے گا۔

ہٹیاں بالا کی حدود بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے علاقے اوڑی سے ملتی ہیں اور وزیر اعظم فاروق حیدر خان بھی اسی علاقے سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG