رسائی کے لنکس

افغانوں اور پختونوں کے خلاف ’کارروائی کی شکایات‘


فائل فوٹو

اس سے قبل وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں پنجاب میں آپریشن کسی خاص علاقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد ملک بھر میں مشتبہ افراد کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن کے سبب خاص طور پر صوبہ پنجاب میں افغانوں اور پختونوں کے خلاف سخت کارروائیوں اور مبینہ طور پر اُن سے امتیازی سلوک روا رکھے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

اگرچہ پنجاب حکومت ایسے الزامات کی نفی کرتی ہے، لیکن پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پختون اور ملک میں موجود افغان اس صورت حال سے پریشان نظر آتے ہیں۔

افغانستان کے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والے شاہ ولی کی پیدائش پاکستان ہی میں ہوئی اور وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزدوری کرتے ہیں۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے، لیکن اُن کے بقول پھر بھی اُنھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

’’ہم تو پاکستان میں کھاتے اور پیتے ہیں، پاکستان کی خلاف ورزی تو نہیں کرتے۔۔۔ کیا ہوا جو افغان ہوں۔ اگر تم پاکستانی ادھر (افغانستان آجاؤ) تو میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسا نا کروں گا۔‘‘

’نسلی تعصب‘ کی بنیاد پر مبینہ کارروائیوں کے خلاف پختون نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے نمائندوں نے گزشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت میں مظاہرہ بھی کیا، جس میں شریک ایک وکیل عبدالوزیر کہتے ہیں کہ پختونوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں۔

’’پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے ہمارے بھی کچھ حقوق بنتے ہیں۔۔۔ 1973 کے آئین نے ہمیں بھی واضح طور پر بنیادی حقوق دیئے ہیں۔ اُنھی بنیادی حقوق کے تحت آپ پورے ملک میں آزادانہ طور پر گھوم پھر سکتے ہیں، کاروبار کر سکتے ہیں۔‘‘

اُدھر اسلام آباد کے علاقے ’جی نائین‘ سیکٹر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک توقیر احمد کیانی بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں افغان اور پختونخونوں سے سختی برتی جا رہی ہے۔

’’کسی نے غلطی کی ہے، اگر وہ پاکستانی ہے یا افغانی ہے تو اس کے خلاف اقدام کرنا چاہیئے۔۔۔ لیکن جو بے گناہ لوگ ہیں اُن کو کیوں پریشان کرتے ہیں۔۔۔ واقعہ ہی میں دیکھ رہا ہوں کہ مہینے دو مہینے سے افغانی سخت پریشان ہیں۔۔۔ ان کے اندر سے اگر کوئی کالی بھیڑیں آ جاتی ہیں تو (سب کو ہم ایسا نہیں) کہہ سکتے ہیں۔۔۔‘‘

پختون وکیل و سماجی کارکن عبدالوزیر کہتے ہیں کہ کسی بھی برادری سے امتیازی سلوک قابل مذمت ہے۔

’’ہم آپ کو یہ بھی واضح کرا دیں کہ (امتیازی رویہ) چاہے پختون کے خلاف ہو، چاہے کسی بھی برادری کے خلاف ہو، اُس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہم کسی سے نفرت نہیں رکھتے۔ لیکن اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہمارا احترام کیا جانا چاہیئے۔‘‘

صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے ٹیلی فون کے ذریعے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سرچ آپریشنز کے دوران ماضی میں بھی ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اُن کے بقول کسی مخصوص قومیت یا طبقے کو نشانہ بنانے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں پنجاب میں آپریشن کسی خاص علاقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ہے۔

XS
SM
MD
LG