رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں: وزارت خارجہ


پاکستانی وزارت خارجہ سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ تشدد اور خونریزی افغانستان میں امن کے حصول کا راستہ نہیں ہے اور پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا رہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور دیگر گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ تشدد اور خونریزی افغانستان میں امن کے حصول کا راستہ نہیں ہے اور پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

صدر اشرف غنی نے پیر کو افغان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ہم پاکستان سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے گا۔‘‘

اُدھر سفارتی ذرائع کے مطابق قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر سے طالبان کا ایک تین رکنی وفد پاکستان آیا ہے جو پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں امن مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے گا۔

لیکن طالبان وفد کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے لاعملی کا اظہار کیا جب کہ خود طالبان کے ترجمان کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

افغانستان کے صدر کی طرف سے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔

افغان صدر کے اسی بیان کے ردعمل میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں میں کسی طرح کی تفریق نہیں کرتا۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں اور اُن کے لیے انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں اور ’’ہم ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں میں نیک نیتی سے مسلسل کوششیں کرتا رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی گروپ مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔

پاکستان کے سابق سفارت کار اور انسٹیٹویٹ آف اسٹرایٹیجک اسٹیڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل مسعود خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغان صدر کی طرف سے پارلیمان میں خطاب کے دوران پاکستان پر اس طرح کے الزامات قابل افسوس ہیں۔

’’یہ بیان اُنھیں اپنی پارلیمنٹ میں نہیں دینا چاہیے تھا، اگر کوئی شکوہ شکایت ہے تو (اُس کا اظہار) پاکستان کے ساتھ براہ راست کرتے۔ پاکستان کی قیادت کے ساتھ اُن کے رابطے خاصے مضبوط ہیں اور وہ کسی وقت بھی پاکستان کی قیادت سے بات کر سکتے ہیں۔‘‘

مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیان کے باوجود پاکستان افغانستان میں امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ چار ملکی کو گروپ ہے، اُس میں شامل تین ممالک چین، امریکہ اور افغانستان میں اتفاق رائے ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی اور دہشت گردی کی اس فضا کو ختم کرنا چاہیئے اور اس سلسلے میں امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ اس بارے میں ہم کوششیں کرتے رہیں گے لیکن کیا اُن کی کابل پذیرائی ہوتی ہے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔‘‘

پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ کے اب تک چار اجلاس ہو چکے ہیں لیکن طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

طالبان نے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اور گزشتہ ہفتے ہی کابل میں ایک بڑے حملے کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک دفتر پر ہونے والے حملے میں لگ بھگ 70 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

طالبان افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے یہ شرط عائد کر چکے ہیں کہ جب تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجی واپس نہیں چلے جاتے اُس وقت تک افغان حکومت سے بات چیت نہیں ہو گی۔

افغان طالبان کی طرف سے تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باوجود پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ امن مذاکرات کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG