رسائی کے لنکس

افغان عسکری وفد کے پاکستانی فوجی کمانڈروں سے مذاکرات


فائل فوٹو

جمعے کو پشاور میں ایک مہلک دہشت گرد حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے تانے بانے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔

افغانستان کی فوج کا ایک وفد جمعرات سے پاکستان میں ہے جہاں دونوں ملکوں کے اعلیٰ عسکری کمانڈروں کے درمیان سرحد آر پار دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے اور سلامتی سے متعلق اُمور پر بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ کہ افغان فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن اپنے وفد کے ہمراہ جمعرات کو پاکستان پہنچے تھے۔

واضح رہے کہ جمعے کو پشاور میں ایک مہلک دہشت گرد حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے تانے بانے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔

اگرچہ افغانستان کی طرف سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر دونوں ملکوں کے درمیان عسکری رابطے اہم ہیں۔

تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ افغانستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں میں بہتری آئی ہے۔

’’میرا اپنا اندازہ ہے کہ پیش رفت بہت اہم ہے۔ جنرل باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور کھل کر باتیں کیں اور اس کے بعد سے پاکستان افغانستان کی مدد بھی کر رہا ہے۔‘‘

اُن کے بقول امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔

’’افغانستان کا جو مسئلہ ہے اس میں میرا خیال ہے کہ عالمی قوتیں افغانستان کو باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ بات چیت سے آگے راستہ نکلے گا۔ میرا خیال ہے یہ بھی ایک چیز ہے جو کردار ادا کر رہی ہے دونوں ملکوں کو بات چیت کی طرف مائل کرنے میں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد لگ بھگ 2600 کلو میٹر طویل ہے اور پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے تاکہ دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔

تاہم افغانستان، پاکستان کی طرف سرحد پر باڑ لگانے کے اس عمل کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس معاملے کو افغان حکام نے پاکستان کے ساتھ مختلف فورمز اور اجلاسوں میں اٹھایا بھی ہے۔

دریں اثنا پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پشاور میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

افغان سفیر کا کہنا تھا کہ عید میلادالنبی کے اہم دن اس بزدلانہ حملے میں معصوم طالب علم ہلاک و زخمی ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG