رسائی کے لنکس

کیا افغانستان میں داعش کے پیدا ہونے میں پاکستان کا کردار ہے؟


پاک افغان سرحد کا وہ علاقہ جہاں اطاعات کے مطابق داعش کے جنگجو فعال ہیں۔ فائل فوٹو

پاک افغان سرحد کے دونوں جانب داعش خراساں گزشتہ کئی برسوں سے فعال ہے جسے بیشتر کمانڈروں کا تعلق اطلاعات کے مطابق پاکستان سے ہیں۔

شہناز نفیس

وائس اف امریکہ کی افغان سروس کو ایک انٹرویو میں، افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل طارق بہرامی نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ افغانستان میں داعش پاکستان کی پیداوار ہے تاکہ افغان طالبان کا کمزور پڑنے کی صورت میں وہ اسے متبادل پریشر گروپ کے طور پر استعمال کر سکے۔

جنرل بہرامی کے اس الزام کی پاکستان نے ابھی تک رسمی طور پر ترديد نہیں کی ہے۔ تاہم جمعرات کے روز وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان سے حکمران جماعت، مسلم لیگ۔ن کے ایک سینیر راہنما سینٹرریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے افغان دفاعی وزیر کے اس بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزام تراشی اور بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عدم استحكام سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے۔ افغانستان کا پچاس فیصد علاقہ افغان فورسز کے زیر کنٹرول نہیں ہے ۔ اس لیے افغانستان کو اگر مسائل کا سامنا ہے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹہرا نا چاہیے۔

امریکی تجزیہ نگار، ڈاکٹر طاہر روہیل کہتے ہیں کہ کوئی بھی اعلیٰ عہدیدار اس قسم کے حساس بیانات اکثر اوقات انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ اور اگر افغانستان کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو انہیں آگے آنا چاہیئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان افغانستان میں داعش کی مدد کرنے میں ملوث پایا گیا تو یہ اس کی اپنی تباہی کی جا نب ایک قدم ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی نظر میں افغان طالبان کی مدد کرنے سے اتنا نقصان اٹھانے کے بعد، پاکستان کسی اور انتہا پسند گروپ کی حمایت نہیں کر ےگا۔

پاکستان میں افغان میڈیا کے ایک نمائندے، عقیل یوسفزئی کہتے ہیں کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسے شواہد نظر نہیں آتے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہو کہ پاکستان کا کوئی ادارہ افغانستان میں داعش کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد، پاکستان تحریک طالبان کئی گروہوں میں بٹ گیا۔ ان میں سے ایک گروپ نے․ جو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں پر مشتمل تھا، افغانستان میں جا کر داعش میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس گروپ کے سرکردہ کمانڈروں کا تعلق پاکستان سے تھا جن میں سے زیادہ تر امریکی ڈرون میں مارے گئے۔

پاک افغان سرحد کے دونوں جانب داعش خراساں گزشتہ کئی برسوں سے فعال ہے جسے بیشتر کمانڈروں کا تعلق اطلاعات کے مطابق پاکستان سے ہیں۔

داعش خراساں دونوں ملکوں میں کئی بار خودکش حملوں اور پرتشدد کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG