رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد، کابل ’’اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘‘ معاہدہ کریں: کانفرنس


پاکستان اور افغانستان کے قانون سازوں اور دانشوروں کی کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کے قومی، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نا ہونے پائے۔

افغان اور پاکستانی قانون سازوں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنی سلامتی کی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جنگ کے لیے ’’اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘‘ کا معاہدہ کرنا چاہیے۔

یہ مطالبہ تنظیم برائے جنوبی ایشیائی آزاد ذرائع ابلاغ یعنی (سیفما) کے زیر اہتمام ہفتہ کو اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ میں سامنے آیا۔

کانفرنس کا مقصد 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک میں باہمی امن و تعاون کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی اور ان سے متعلق کوششوں پر بات چیت کرنا تھی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کے قومی، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نا ہونے پائے۔

کانفرنس نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی کے مجوزہ معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ بین الاقوامی افواج کے انخلاء سے علاقائی سلامتی سے متعلق غیریقینی کی صورتحال کو ختم کرنے میں اس معاہدے سے مدد ملے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت پیش کردہ سیکورٹی اور اقتصادی امداد اس بات کی یقین دہانی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کبھی دوبارہ افغانستان، خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ افغان لویا جرگہ کے بعد حکومت بھی اس مسودے کی منظوری دے دے گی۔

کانفرنس میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون ساز فرحت اللہ بابر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر اسلام آباد اور کابل نے مل کر دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات نا کیے تو ’’دونوں طرف موجود شدت پسند مل کر مضبوط ہو جائیں گے۔ افغانستان کو بھی نشانہ بنائیں گے اور پاکستان کو بھی۔‘‘

’’فضل اللہ کا پاکستانی طالبان کا سربراہ بننا ایک موقعہ ہمارے لیے کہ ہم جان لیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہمارے لیے خطرہ ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ’’باڈر مینجمنٹ‘‘ کی نظر ثانی کرتے ہوئے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہوگا۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں زور دیا گیا کہ خطے میں قیام امن اور استحکام پر پاکستان اور افغانستان کے ہمسایہ ملکوں میں بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری اور ان کا اس متعلق کوششوں میں شامل ہونا لازمی ہے۔

افغانستان کی غیر سرکاری تنظیم برائے امن و سلامتی کی ڈائریکٹر نرگس نہال کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو امن اور بنیادی زندگی کی ضروریات چاہیے نا کہ اختلافات۔

’’یہ ہمیشہ اختلافات کی بات کرتے ہیں۔ کبھی دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ چیزوں اور مفادات کے بارے میں جانے یا انہیں سامنے لانے کی زحمت نہیں کرتے اور اسی کی کمی ہے جو کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر ہونے نہیں دیتی۔ تو ہمیں اس پر توجہ دینا ہوگی بجائے کہ اختلافی امور کو زیر بحث لائیں۔‘‘

کانفرنس کے اعلامیہ میں پاکستان اور افغانستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں تعاون اور عوامی سطح پر رابطوں کو بڑھائیں تا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والی شدید نوعیت کا عدم اعتماد اور غلط فہمیاں دور ہو سکیں۔
XS
SM
MD
LG