رسائی کے لنکس

’افغانستان کی بھلائی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں‘


(فائل فوٹو)

گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان نے علامہ محمد اقبال اسکالر شپ پروگرام کے تحت مزید تین ہزار افغان طلبہ کو تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان میں تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کو دورے کرنے کے لیے جہاں حکومت کی سطح پر رابطوں کے علاوہ غیر رسمی سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے، وہیں ملک میں زیرِ تعلیم افغان نوجوانوں کے ذریعے بھی مثبت پیغامات سرحد پار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے ایک گروپ نے صدر ممنون حسین سے منگل کو ایوانِ صدر میں ملاقات کی۔

اس موقع پر صدرِ پاکستان نے کہا کہ ’’افغانستان کی بھلائی کے لیے ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے جاری اس جنگ کے دوران افغانستان کے شہریوں نے بہت کچھ کھویا ہے اور پاکستان کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔

’’آپ جن اسکالر شپس (تعلیمی وظائف) پر پاکستان میں آئے ہیں اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ آنے والے دور کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا وطن افغانستان آپ سے جو توقعات وابستہ کرتا ہے، پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ انھیں بحسن و خوبی پورا کر سکیں گے۔‘‘

پاکستانی صدر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ تعلیم مکمل کرنے والے افغان نوجوان اپنے ملک میں پاکستان کے سفیر بنیں گے۔

’’جب آپ اپنی تعلیم مکمل کر کے افغانستان واپس جائیں گے تو آپ کی ذمہ داری دوہری ہو جائے گی۔ پھر نہ صرف آپ افغانستان کے سفیر ہوں گے بلکہ آپ پاکستان کے بھی سفیر افغانستان میں ہوں گے اور اپنے تجربات سے یقیناً اپنی قوم کو روشناس کرائیں گے۔‘‘

اُنھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض عناصر دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی پیدا کرتے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے اُن کے بقول ہوش مندی سے فیصلوں کی ضرورت ہے۔

’’مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے کہ کچھ واقعات ایسے ہو جاتے ہیں کہ کچھ لوگ، جو نہ افغانستان کے دوست ہیں نہ پاکستان کے دوست ہیں، وہ غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔‘‘

دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کا سبب بننے والے مسائل پر بات چیت کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے بھی جاری ہیں جب کہ غیر رسمی سفارت کاری کے سلسلے میں افغانستان کا ایک 12 رکنی وفد بھی پیر کو اسلام آباد پہنچا ہے جو دیگر مصروفیات کے علاوہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ سے بھی ملے گا۔

گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان نے علامہ محمد اقبال اسکالر شپ پروگرام کے تحت مزید تین ہزار افغان طلبہ کو تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل پہلے مرحلے میں تین ہزار افغان طلبہ نے پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔

دوسرے مرحلے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں افغان طلبہ پاکستانی جامعات میں نہ صرف ایم اے یعنی ماسٹرز ڈگری کی سطح کی تعلیم حاصل کر سکیں گے بلکہ پہلی مرتبہ اُنھیں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے بھی اسکالر شپ دی جائے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک لگ بھگ 48 ہزار افغان شہری پاکستانی تعلیمی اداروں سے تعلیم مکمل کرچکے ہیں جو افغانستان اور بیرونِ ملک مختلف سرکاری و نجی شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں گزشتہ لگ بھگ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان باشندے مقیم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG