رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: پاک افغان تجارتی راستہ دوبارہ کھولنے کا اعلان


(فائل فوٹو)

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مرکزی علاقے میران شاہ سے غلام خان تک شاہراہ کو بھی کھولا کیا گیا ہے تاکہ تجارتی سامان کی آمد و رفت کو سہل بنایا جا سکے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ’’غلام خان‘‘ نامی سرحدی راستہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے لیے بدھ سات مارچ سے دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف 2014ء میں ’ضربِ عضب‘ نامی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد یہ سرحدی راستہ بند کر دیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مرکزی علاقے میران شاہ سے غلام خان تک شاہراہ کو بھی کھولا کیا گیا ہے تاکہ تجارتی سامان کی آمد و رفت کو سہل بنایا جا سکے۔

’غلام خان‘ سرحد راستہ کھولنے کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یہ خبریں گرم ہیں کہ دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں کے دوران تجارت کے حجم میں 50 فی صد تک کمی آئی ہے۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں نئے سرحدی راستے کو کھولے جانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

’’یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تمام راستے کھلے ہونے چاہئیں۔ اسی سے تجارت بڑھے گی اور آپس کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2.7 ارب ڈالر تک تھا جو اب کم ہو کر 1.2 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں کمی کے باعث ایران، بھارت اور چین کی مصنوعات نے افغان مارکیٹ میں جگہ بنا لی ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ قریبی پڑوسی ملک ہونے کے سبب افغانستان کی منڈیوں تک رسائی کے لیے سب سے قریبی اور موزوں زمینی راستے پاکستان ہی کے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ تجارت میں کمی کی بڑی وجوہات میں دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی اور تسلسل کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا نہ ہونا ہے۔

’’دونوں ممالک کے جو سیاسی روابط ہیں اُن میں دو سالوں کے درمیان کمی ہوئی۔ اور دوسری وجہ یہ تھی تجارت سے متعلق سرکاری سطح پر کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔۔۔۔ جب اجلاس نہیں ہوتے ہیں تو غلط فہمیاں بھی بڑھتی ہیں اور مسائل بھی بڑھتے ہیں۔۔۔ سیاسی تعلقات تجارتی روابط پر حاوی ہو جاتے ہیں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان روابط میں حالیہ ہفتوں میں بہتری آئی ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ میں کمی آئے گی جس کے باہمی تجارت پر بھی مثب تعلقات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG