رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان کی دو طرفہ تجارت میں بہتری


درہ خیبر کے راستے تجارتی ٹرک افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت میں مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے نتیجے میں یہ تجارت سالانہ 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جس کا زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو ہو گا۔

دوسری طرف ایران کے خلاف امریکی معاشی پابندیوں کے نتیجے میں کراچی کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ, جس کا لگ بھگ 70 فیصد حصہ 2010 کے بعد ایران اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف منتقل ہو گیا تھا اب دوبارہ کراچی کے راستے بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔

پچھلے چند برسوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات تنزلی کا شکار تھے، جس کی وجہ سے دو طرفہ تجارت کا حجم گھٹ کر صرف 500 ملین ڈالر سالانہ رہ گیا تھا۔ مگر اب خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زاہد اللہ خان شینواری کے مطابق یہ تجارت 1.2 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور یقین دہانیوں کے بعد اس میں مزید اضافہ ہو گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق فی الوقت افغانستان پاکستان کا واحد ایسا پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت کو فروع دینے کے بہت امکانات ہیں اور افغانستان ہی کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروع دینے سے پاکستان کے بہت سے معاشی مسائل حل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

نائین الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد جب افغانستان میں سیاسی حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے تو اس وقت افغانستان کے تمام شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا انحصار پاکستانی درآمدات پر تھا۔ اور 2006 میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم لگ بھگ 5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ جب کہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد پر مختلف روایتی اور غیر سرکاری گزرگاہوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی تجارت کا حجم اس سے بھی کہیں زیادہ تھا۔

تاہم، 10-2009 کے دوران جب پاکستان میں کراچی سے چمن اور طورخم کے سفر کے دوران تمام اہم شاہراہوں پر افغانستان کے لیے سامان لے جانے والے ٹرکوں اور ٹرالروں پر ہلاکت خیز حملے شروع ہوئے تو اس کے دو طرفہ تجارت پر منفی اثرات پڑنے شروع ہو گئے اور کراچی کے راستے افغانستان کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ ایران کی بندر گاہوں بندر عباس اور چاہ بہار اور وسط ایشائی ممالک کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئی۔

اس دوران افغانستان میں تعینات امریکہ اور اتحادی افواج کے لیے سامان رسد لے جانے والے ٹرکوں پر ہلاکت خیز حملے بھی روزمرہ کا معمول بن گئے اور نومبر 2011 میں مہمند کے سرحدی علاقے سلالہ میں اتحادی افواج کی جانب سے پاکستان کی سرحدی چوکی پر حملے کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے لیے رسد کی فراہمی معطل کر دی جس کا دو طرفہ تجارت پر منفی اثر مرتب ہوا۔

افغانستان چونکہ ایک ایسا ملک ہے جس کی کوئی سرحد سمندر سے نہیں ملتی اس لیے اس کی بیرونی تجارت اور معیشت کا زیادہ تر دار و مدار ہمسایہ ممالک کے راستے تجارت پر ہے۔

افغانستان کو پاکستان کے راستے بیرونی تجارت کی سہولتیں پچھلی ایک صدی سے حاصل ہیں مگر دونوں ہمیسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات کی صورت حال کے تحت ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

14-2015 میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد پر باڑ لگانا شروع کی جس پر ایک نیا سرحدی تنازع شروع ہو گیا اور مختلف سرحدی مقامات پر دونوں ملکوں کے درمیان فائزنگ کے تبادلے ہونے لگے جس کے منفی اثرات دو طرفہ تجارت پر بھی پڑے۔ بعد ازاں پاکستان نے سرحد کے آر پار آمد و رفت کو اجازت نامے سے مشروط کر دیا تو اس کا بھی براہ راست اثر دو طرفہ تجارت پر پڑا۔

فی الوقت طورخم اور چمن کے ساتھ ساتھ کرم کی خرلاچی گزرگاہوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت ہو رہی ہے۔ لیکن بعض دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے، جن میں شمالی وزیرستان کا علاقہ غلام خان اور جنوبی وزیرستان کا انگور اڈہ شامل ہیں، سمگلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زاہد اللہ شینواری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم پچھلے دو تین برسوں سے ایک ارب 20 کروڑ اور ایک ارب 30 کروڑ ڈالر پر رکا ہوا ہے۔ سن 2010-2012 تک دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم تقریباً ڈھائی ارب ڈالر تھا۔ تاہم، اُنہوں نے کہا کہ اب حکومت پاکستان نے بعض ایشاء پر محصولات کم کیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کو فروع ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تجارتی اور صنعتی حلقوں کی مشترکہ تنظیم کے نائب صدر ضیاء الحق سرحدی کا کہنا ہے کہ ایران پر معاشی پابندیوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ مل رہا ہے۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ 2010 کے واقعات کے بعد زیادہ تر ٹرانزٹ ٹریڈ ایران اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف منتقل ہو گئی تھی جو اب کراچی کے راستے دوبارہ بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

افغانستان کے زیادہ تر تجارتی حلقے بھی پاکستان کی جانب سے عائد کردہ اعلامیہ اور غیر اعلامیہ پابندیوں پر نالاں ہیں اور اسی وجہ سے وہ پاکستان کی بجائے ایران اور وسط ایشیائی راستوں سے بیرونی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ اب پاکستانی حکام نے افغان تاجروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر وہ مطمئن دکھائی دے رہے ہیں، اس سے دو طرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہو گا۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ میں سرحدی علاقوں میں آباد قبائل اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر پاکستان کی جانب سے ان کی سرحد کے آرپار آزادانہ آمد و رفت پر پابندیوں کے باعث وہ پریشان ہیں۔ یہ چیز دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG