رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان تجارت کا نیا راستہ، پاکستان کے لئے دھچکا؟


ہرات

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں ترکمانستان کے راستے لاپس لازولی کوریڈور کا افتتاح کرتے ہوئے، افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ ’’اس سڑک کے راستے نہ صرف وسطہ ایشائی ممالک بلکہ یورپ اور جنوبی ایشا کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا‘‘

افغان حکومت نے ترکمانستان کے راستے ایک نئے ’ٹرانزٹ روٹ‘ کا افتتاح کیا ہے، جس سے، تجزیہ کاروں کی رائے میں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں ترکمانستان کے راستے لاپس لازولی کوریڈور کا افتتاح کرتے ہوئے، افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ ’’اس سڑک کے راستے نہ صرف وسطہ ایشائی ممالک بلکہ یورپ اور جنوبی ایشا کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا‘‘۔

پاکستان کا نام لئے بغیر، افغان صدر نے کہا کہ ’’ماضی قریب میں افغانستان پر تجارتی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، مگر اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں‘‘۔

راہداری کے حوالے سے، افغان صدر نے ترکمانستان، ترکی اور آذربائیجان کی تعریف کی۔

لاپس لازولی کوریڈور کی تعمیر کے سلسلے میں اکتوبر 2017ء میں افغانستان، ترکی، ترکمانستان، آذربائیجان اور جارجیا نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ کوریڈور افغانستان کے شمالی صوبے فاریاب سے ہوتا ہوا ہرات طورعونڈی اور ترکمانستان کے ترکمان باشی تک جائیگا۔ اور اس طرح یہ آذربائیجان کے دارالخلافے باکو سے تبلیسی جارجیا کے بحیرہ اسود سے آگے بتومی اور پوٹی کی بندرگاہوں اور ترکی کے کارز اور استنبول کے راستے یورپ تک جائیگا۔

کوریڈور کے کھلنے کے بعد اب افغانستان مختلف اقسام کی 180 ٹن اشیا دیگر وسط ایشائی ممالک کے راستے یورپ برآمد کر سکے گا۔

’فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ کے سابق صدر اور سابق سینیٹر الیاس بلور نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ اس نئی راہداری سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت ’’بہت متاثر ہوگی‘‘۔

الیاس بلور نے یاد دلایا کہ کسی وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب امریکی ڈالر سالانہ تھا مگر اب یہ صرف 300 ملین ڈالر ہے۔

سابق سینیٹر اور قوم پرست، جماعت عوامی نیشل پارٹی کے رہنما الیاس احمد بلور کے مطابق، ’’دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے خراب ہونے کے سب سے زیادہ منفی اثرات خیبر پختونخوا ہی پر پڑیں گے‘‘۔

اُدھر، اطلاعات کے مطابق، طورخم میں افغانستان کے تازہ پھلوں سے لدے لگ بھگ 70 ٹرک پچھلے 20 دنوں سے کھڑے ہیں جبکہ سرحد پار افغانستان میں پاکستانی تاجروں کے ہزاروں ٹرک اور ٹرالر بھی رکے ہوئے ہیں۔ طورخم میں کسٹم کلیرنگ ایجنٹس کے صدر، زرقیب شنواری نے کہا ہے کہ ’’دونوں ممالک کے درمیان تجارت ختم ہونے کے قریب ہے‘‘۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت اور تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں تاجر اور ٹرانسپورٹر پریشان ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم چمن کے علاوہ کئی ایک اور سرحدی گزرگاہیں بھی ہیں، مگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور خطے میں دہشت گردی انتہا پسندی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث تمام سرحدی گزرگاہیں آمد و رفت اور دوطرفہ تجارت کیلئے بند ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے نسبت آمد و رفت کے سلسلے میں کافی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

افغانستان میں ہرات بڑے تجارتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں سے ایران کے راستے بڑے پیمانے پر درآمدت اور برآمدات ہوتی رہتی ہیں۔

لیکن، مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ایران پر بعض عالمی پابندیوں کی بنا پر ہرات میں قائم کارخانوں کو خام مال کی ترسیل بند ہے یا انتہائی کم ہوچکی ہے، جبکہ تیار شدہ مال اور زرعی اجناس کی برآمدات میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG