رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان مشترکہ ایکشن پلان مذاکرات جاری رکھنے پر متفق


کابل میں پاکستان اور افغانستان کے اعلی سطحی اجلاس کا منظر -3 فروری 2018

یہ اجلاس کابل میں کئی ہلاکت خیز دہشت گرد حملوں کے بعد ہوا ہے جس میں 140 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسلام آباد اور کابل کے اعلی سطحی سول اور فوجی عہدے داروں پر مشتمل وفود نے امن اور استحکام کے لیے پاک افغان ایکشن پلان کے کابل میں ہونے والے اجلاس میں کچھ نکات پر اتفاق کیا اور اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ دو طرفہ رابطوں سے متعلق پورے بلیو پرنٹ پراتفاق حاصل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھی جائے ۔

یہ اجلاس کابل میں کئی ہلاکت خیز دہشت گرد حملوں کے بعد ہوا ہے جس میں 140 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حملوں کے فوراً بعد افغان وزیر داخلہ اور انٹیلی جینس سروس کے سربراہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور حملہ آوروں کی پاکستان میں تربیت اور حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق شواہد اور افغان صدر کا پیغام پاکستانی عہدے داروں تک پہنچایا تھا۔

ایک روز پہلے افغان صدر اشرف غنی نے قوم نے نام اپنے خطاب الزام لگایا تھا کہ پاکستان طالبان کا ہیڈ کوارٹرز ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس کی تاریخ کابل کے حالیہ حملوں سے کافی پہلے طے کی گئی تھی۔

پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی۔

ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے کابل میں دہشت گردحملوں کی مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کی اور افغان حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں موجود پاکستان دشمن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ایک دوسرے کےخلاف الزام تراشی کی بجائے دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے مشترکہ ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان نے سرحدی بندوبست کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ دہشت گردوں کی سرحد آر پار آمد و رفت کو روکا جا سکے۔

افغانستان پاکستان ایکش پلان کا اگلا اجلاس 9 اور 10 فروری کو اسلام آباد میں ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG