رسائی کے لنکس

امریکی امداد کی معطلی باہمی اعتماد سازی کے لیے نقصان دہ


(فائل فوٹو)

یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر اینڈریو سِسن کے مطابق امریکی امداد سے پاکستان میں تعلیم، توانائی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں شروع کیے گئے طویل المدتی منصوبوں میں سے اکثر کے بہت زیادہ مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

بین الاقوامی ترقی سے متعلق امریکی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کے پاکستان میں سربراہ اینڈریو سِسن نے متنبہ کیا ہے کہ امدادی پروگرام کی معطلی دونوں ملکوں میں اعتماد سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس انتباہ کا پس منظر دو مئی کو ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکی کانگریس کے بعض اراکین کی طرف سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کے مطالبات اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں حکومت پر امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی زور پکڑتی بحث ہے۔

پاکستان میں یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر اینڈریو سِسن نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور تاحال اُنھیں واشنگٹن سے اُن پر عملدر آمد روکنے کی کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔

اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد کا پروگرام معطل نہیں کیا جائے گا کیوں کہ پاکستانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں میں یہ انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ’’پارٹنرشپ اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد طویل المدتی سرمایہ کاری اور باہمی اعتماد پر کھڑی کی جاتی ہے اس لیے امداد کی کٹوتی کے فیصلے سے پاکستان میں اب تک جو بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے اُس پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک اور نقصان دہ ہو گا۔‘‘

اینڈریو سِسن نے توقع ظاہر کی کہ امریکی انتظامیہ میں اُن کی قیادت کانگریس میں اس موضوع پر بھرپور بات چیت جاری رکھے گی اور اس کے نتیجے میں درست فیصلے سامنے آئیں گے۔

اُن کے مطابق امریکی امداد سے پاکستان میں تعلیم، توانائی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں شروع کیے گئے طویل المدتی منصوبوں میں سے اکثر کے بہت زیادہ مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

اینڈیو سِسن نے کہا کہ خصوصاً توانائی کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری سے شروع کیے گئے بعض منصوبے تکمیل کے قریب ہیں جن سے پاکستان کو آئندہ دو سالوں میں پانچ سو میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔

اُنھوں نے بتایا کہ یو ایس ایڈ حکومت کے ساتھ مل کر دیگر ایسے منصوبوں پر بھی کام کررہا ہے جو پاکستان کو بجلی کے بحران سے نمٹنے میں مدد دیں گے کیونکہ ملک میں لوڈشیڈنگ کے خلاف آئے روز احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

یوایس ایڈ کے سربراہ نے بتایا کہ تربیلا ڈیم کی پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنے کے علاوہ اسکردو میں سد پارہ ڈیم اور جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کی تعمیر بھی انتہائی اہم منصوبے ہیں۔ ’’جنوبی وزیرستان میں زراعت کے لیے آبپاشی کا ڈھانچا بنانے کے لیے بھی امریکی امداد دی جارہی ہے جس سے خیبر پختون خواہ کے علاقوں کو بھی پانی دستیاب ہو سکے گا اور ملک کا ایک ایسا حصہ جو عدم استحکام سے دوچار ہے وہاں مجموعی طور پر 25 ہزار خاندان اس سرمایہ کاری سے مستفید ہوں گے۔‘‘

اینڈیو سِسن نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ پاکستان خصوصاً شورش زدہ فاٹا کے علاقوں میں استحکام لانے کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی طویل المدتی سرمایہ کاری کے سلسلے میں پنجاب میں ایک ہزار اسکول تعمیر کیے جائیں گے جن میں سے زیادہ تر گذشتہ سال سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔

اینڈریو سِسن کے مطابق صحت کے شعبے میں خصوصاََ انسداد پولیو کی مہم میں بھی مقامی حکام کی مالی معاونت کی جا رہی ہے کیونکہ اس خطرناک بیماری سے اس وقت سب سے زیادہ بچے پاکستان میں متاثر ہو رہے ہیں۔

’’تعلیم اور صحت کے ان منصوبوں میں تاخیر سے ناصرف لاکھوں بچے بروقت اپنی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے قاصر ہوں گے بلکہ کروڑوں بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کی کوششیں بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔‘‘

XS
SM
MD
LG