رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، سینیٹر لنزی گراہم


سینیٹر لنزی گراہم، فائل فوٹو

امریکی سینیٹر لنزی گراہم پاکستان کے اپنے دورے میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت تعلقات غلط ہیں۔ پاکستان کے ساتھ عبوری تعلقات کے بجائے اسٹریٹییجک تعلقات قائم کئے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب افغانستان میں مفاہمت کے عمل کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی عزم کو سراہا ہے اور مزید اقدامات کی توقع ظاہر کی ہے۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری نے دو ممتاز ماہرین، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے خالد رحمان اور بریگیڈیر عمران ملک سے امریکی لب و لہجے میں تبدیلی کے بارے میں گفتگو کی۔

خالد رحمان نے سینیٹر گراہم کے دورے اور اس دوران کہی جانے والی باتوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام تصور یہ تھا کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر رکھے ہیں، اس لئے وہ تعلق قائم نہ ہو سکا جو مستحکم اور دیرپا تعلقات کے لئے ضروری ہے۔ اب امریکہ نے افغانستان میں اپنی اس پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ بلکہ تبدیلی پر عمل شروع کر دیا ہے جس پر گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ عمل کر رہا تھا۔ اب وہ طالبان سے براہ راست بات بھی کر رہے ہیں۔

خالد رحمان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ یہ ابھی بہت ابتدائی مرحلہ ہے، تاہم یہ صرف ایک سینیٹر کی ہی باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت بھی پاکستان سے اسٹریٹیجک تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک عمران خان کے اس موقف کو سینیٹر کی جانب سے سراہے جانے کی بات ہے کہ طالبان سے مذاکرات ہی افغانستان کے مسئلے کا حل ہے، تو یہ بات بہت عرصے سے کہی جا رہی ہے لیکن اب چونکہ عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں، اس لیے اس بات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں خالد رحمان نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے آپشنز تبدیل کیے ہیں اور انہیں احساس ہو گیا ہے کہ اب تک جو کچھ بھی کیا جاتا رہا ہے اس سے امن کا مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ اور انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ پاکستان کا موقف ہی درست تھا اور اسی احساس کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایک نیا ماحول تشکیل پا رہا ہے جس میں امریکہ دباؤ کی بجائے مشاورت کے ذریعے چیزوں کو آگے بڑھا رہا ہے جو ایک بہت مثبت بات ہے۔

بریگیڈیر عمران ملک کا کہنا تھا اب امریکہ کو پھر سے پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور اس کی باتیں صحیح محسوس ہو رہی ہیں۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اب امریکہ، پاکستان کو انگیج کر رہا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اب امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یقینی طور پر کوئی ٹائم لائن بھی انکے ذہن میں ہو گی۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔ گفتگو کا آغاز خالد رحمان کر رہے ہیں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:42 0:00


فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG