رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان امریکہ تعلقات، برف نہیں پگھل سکی


واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ، اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم شاہ محمود قریشی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ 2 اکتوبر 2018

کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اس بارے میں امریکی اور پاکستانی تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ تعلقات وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے، تاہم مزید بات چیت کے راستے کچھ ہموار ہوئے ہیں۔

کیا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ جواب میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں قائم پاکستان سینٹر کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا تھا کہ تعلقات وہیں کھڑے ہیں جہاں تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں برف کچھ پگھلی ہے، بلکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ایک وقفہ ہے، ایک توقف ہے۔ اور اگر کوئی غیر معمولی واقعہ نہ ہوا جس سے منظر نامہ تبدیل ہو جائے، تو دونوں جانب سے بات کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھے گی۔

جب یہ سوال ایف سی کالج لاہور میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ ڈاکٹر فاروق حسنات سے کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ تعلقات اگر بہتر نہیں ہوئے تو بگڑے بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جیسے پہلے تعلقات تھے، بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔ البتہ بات چیت کا دروازہ ضرور کھلا ہے۔ اور اس میں افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادہ پاکستان آئے اور ان سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ تو میرے نزدیک دروازہ ضرور کھلا ہے۔

پاکستان کے لئے امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ نے حالات کا بہت مثبت اور مناسب تعین کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لئے افغانستان کا سوال بہت اہم ہے، جو کہ ایک مثبت بات ہے۔ مگر مجھے اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے کسی نئی کوشش کا تذکرہ نہیں ملا۔

دورے کے بعد، دونوں ممالک کی وزارت خارجہ نے جو پریس ریلیز جاری کیں، ان میں پہلی بار کچھ یکسانیت پائی گئی۔ اس بارے میں ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی نتیجہ خیز بات سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایک ہی صفحے پر ہیں یعنی ہمارے خیالات میں یکسانیت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو اس صفحے پر ہے وہ واضح نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ہم مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اور نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ دونوں جانب سے پریس ریلیزیں تو جاری ہوئیں لیکن کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔

ڈاکٹر حسنات کہتے ہیں کہ دونوں ملک اپنے زاویے سے پریس نوٹ جاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہ اپنے اپنے مطلب کی گنجائش رکھتے ہوئے، اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں کہ دونوں اس کی تشریح اپنی مرضی کے مطابق کر لیں۔ اور اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ بات چیت پر جمود نہ طاری ہو بلکہ بات چیت کو آگے رکھا جائے، چاہے وہ اس تشریح اپنی مرضی سے کریں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا تعلقات میں بہتری دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر وائن بام کہتے ہیں کہ نہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی توجہ کا مرکز خارجہ پالیسی کی بجائے ان کی دیگر باتوں پر ہے۔ اس وقت ان کی اولین ترجیحات اور ہیں۔ پاکستان کے لئے اس وقت اس کی اندرونی پالیسی اولین ہے۔ جس پر انہیں توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات بعد کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر فاروق کہتے ہیں کہ ایک تو ترجیحات کی بات ہے اور دوسرا یہ ہے کہ جو اسٹریٹیجک شراکت داری ہے وہ اب امریکہ اور پاکستان کی نہیں رہی۔ وہ اب امریکہ اور بھارت میں ہو گئی ہے، اور پاکستان چین کے ساتھ اور روس کے ساتھ تعلقات بنا رہا ہے۔ اس لئے یہ ترجیحات تو نہیں ہو سکتیں کہ آئیے مل بیٹھیے اور پھر وہ جو سرد جنگ کا دور تھا اس کی طرح ہم تعلقات بنا لیں ، تو ایسا یقیناً نہیں ہے۔

تاہم تمام تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر تعلقات اچھے نہیں ہوئے تب بھی ایک دوسرے کے موقف کو بہتر طور پر سنا اور سمجھا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG