رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان سب سے زیادہ فیس بک پوسٹس بلاک کرانے والے ملکوں میں شامل


فائل فوٹو

سماجی رابطوں کے معروف پلیٹ فارم فیس بک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں دنیا بھر سے مختلف ملکوں کی حکومتوں کی درخواست پر 15 ہزار 826 پوسٹس بلاک کیں۔ سب سے زیادہ پوسٹیں بلاک کرانے والوں میں روس، پاکستان اور میکسیکو شامل ہیں۔

​فیس بک کے مطابق یکم جولائی سے 31 دسمبر 2019 کے دوران روس کی درخواست پر فیس بک اور انسٹاگرام پر 2900 پوسٹس بلاک کی گئیں جب کہ پاکستان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا جس کی درخواست پر 2270 پوسٹس بلاک کی گئیں۔

فیس بک اور انسٹاگرام پر شائع ہونے والی ان پوسٹس یا اکاؤنٹس تک رسائی روکی گئی ہے جو مبینہ طور پر ملکوں کے مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

فیس بک کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی شفافیت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے نگران ادارے 'پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی' (پی ٹی اے) کی درخواستوں پر گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں 2270 پوسٹس اور میڈیا مواد تک رسائی کو روکا گیا۔ جب کہ سال 2019 کے ابتدائی چھ ماہ میں فیس بک نے 5690 پوسٹس بلاک کی تھیں۔

اگرچہ فیس بک کی طرف سے بلاک شدہ مواد کی تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن فیس بک نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے اطلاع کرنے پر اس مواد تک رسائی روکی جاتی ہے جو پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہو۔

پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم روکنے، عدلیہ مخالف یا مذہبی طور توہین آمیز یا پھر ایسا مواد جو ملکی آزادی اور ساکھ کے خلاف ہو، اسے حکومت کی درخواست پر بلاک کیا جاتا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ جنوری 2019 سے جون 2019 کی نسبت گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں حکومت پاکستان کی طرف سے فیس بک کے مواد اور صفحات تک رسائی روکنے کی درخواستوں میں کمی آئی ہے جب کہ صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے درخواستوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں فیس بک کو صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کی 1849 درخواستیں دی گئی تھیں جب کہ آخری چھ ماہ کے دوران حکومت پاکستان نے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے دو ہزار سے زائد درخواستیں دی ہیں۔

حکومت پاکستان نے 2630 فیس بک اکاؤنٹس کے ڈیٹا تک رسائی کی درخواستیں دیں جن میں سے 1878 درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد ان میں سے 52 فی صد پر کارروائی کی گئی۔

اس معاملے پر ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے لیے سرگرم کارکن فرحان حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اکاؤنٹس اور مواد تک رسائی محدود کرنے کی حکومتی درخواستوں میں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین حکومت اور اس کے بعض اداروں کی پالیسیوں پر تبصرہ یا تنقید کرتے ہوئے سیلف سینسرشپ اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس کی بڑی وجہ پاکستان میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حکومتی اقدامات ہیں جو آزادیٔ اظہار کی فضا کو مبینہ طور محدود کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

فرحان حسین کا کہنا ہے کہ فیس بک اکاؤنٹس یا صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے دی جانے والی درخواستوں میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر فیس بک سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب فیس بک کی اس رپورٹ پر پی ٹی اے کی جانب سے اب تک کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔ وائس آف امریکہ نے بھی پی ٹی اے سے مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ادارے کی جانب سے تاحال کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔

البتہ پی ٹی اے کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے ادارے نے صرف اس مواد کو ہٹانے کی درخواست کی ہے جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی میں شمار ہوتا ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG