رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ایک سال میں سات صحافی قتل، درجنوں کو ہراساں کیا گیا: رپورٹ


(فائل فوٹو)

پاکستان میں صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم 'فریڈم نیٹ ورک' کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات کو اظہار رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عالمی یوم صحافت سے قبل جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2019 بھی صحافیوں کے لیے مشکل سال رہا۔ 2019 میں فرائض کی انجام دہی کے دوران سات صحافی جان کی بازی ہار گئے، جب کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے 91 کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں پاکستان میں دو صحافی اغوا، نو گرفتار جب کہ 10 کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 10 صحافیوں کو سنسرشپ اور آٹھ کو قانونی نوٹسز کا سامنا کرنا پڑا۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2019 سے اپریل 2020 تک پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ صحافیوں کو دیگر خطرات کے علاوہ معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک شہر قرار دیا گیا ہے، جہاں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور اُن پر تشدد کے 31 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 24، پنجاب میں 20، خیبر پختونخوا میں 13 اور بلوچستان میں تین کیسز سامنے آئے۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیگٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو قابو کرنے کے لیے قتل، دھمکیوں اور ہراساں کرنے سمیت دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں زبانی اور تحریری طور پر صحافیوں کو دھمکانے کے 23 کیسز سامنے آئے۔ اس کے ساتھ 13 کیسز میں صحافیوں کو ہراساں کیا گیا۔ 11 واقعات میں صحافیوں پر حملے ہوئے جن میں سات صحافی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 63 صحافیوں کا تعلق مختلف نیوز چینلز سے تھا۔ پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے 25 صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اقبال خٹک کے بقول، پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کے باعث انہیں نشانہ بنانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

اقبال خٹک کہتے ہیں کہ 2002 سے 2020 تک کل 130 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ لیکن، ان میں سے صرف چار کیسز میں قانونی کارروائی کی گئی اور ان میں بھی سزائیں نہیں مل سکیں۔

پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔
پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ڈینئل پرل کیس میں 18 سال بعد عدالت نے ملزمان کو عدم ثبوت پر رہا کیا تو حکومت کو خود مدعی بننا پڑا۔ سزا سے بچنے کی روایت پاکستان میں پنپ رہی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے صحافتی تنظیموں اور حکومت کے کردار پر اقبال خٹک نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت، میڈیا مالکان، صحافی اور سول سوسائٹی مل کر ہی کوئی حل نکال سکتے ہیں۔

اُن کے بقول، صحافی اور سول سوسائٹی تو کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست اور میڈیا مالکان اس بارے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے اور جب بھی کسی صحافی کو کوئی خطرہ یا نقصان ہوتا ہے تو حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔

اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ اس وقت ریاستی ادارے صحافیوں کی مالی مشکلات کو آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ادارے جو آزاد صحافت پر یقین رکھتے ہیں ان کے اشتہار اور ادائیگیاں روک کر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے۔

اقبال خٹک کے بقول، یہ حکومت تبدیلی کے نام پر آئی تھی۔ لیکن، ماضی میں معاش کو حربے کے طور پر استعمال ہونے والی روایت آج بھی جاری ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ آج صحافیوں کو کرونا ہی نہیں بلکہ بے روزگاری کا خوف بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں کٹوتی کر کے بھی ان کی زبان بندی کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے، کوئی بھی حکومتی موقف تاحال سامنے نہیں آسکا۔ تاہم، اب سے کچھ دن قبل وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس قدر آزادی ان کے دور میں میڈیا کو دی گئی ہے وہ اس سے قبل ماضی میں کسی نے نہیں دی۔ پاکستان حکومت میڈیا پر کسی بھی قسم کی پابندی یا قدغن سے ہمیشہ انکار کرتی آئی ہے۔ سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG