رسائی کے لنکس

logo-print

کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس ہے: عمران خان


پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ملائیشیائی ہم منصب مہاتیر محمد کی ملاقات۔

پاکستان اور ملائیشیا نے مسلم اُمّہ کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر اُنہیں افسوس ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان وفد کے ہمراہ گزشتہ روز ملائیشیا پہنچے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے منگل کی صبح اپنے ملائیشیائی ہم منصب مہاتیر محمد سے ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، خطے کی صورتِ حال، کشمیر اور مسلم اُمّہ کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی موجودگی میں تحویل مجرمان کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور ملائیشیا کے وزیرِ قانون لیو وی کیونگ نے معاہدے پر دستخط کیے۔

'پاکستان ملائیشیا کے نقصان کا ازالہ کرے گا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:15 0:00

دسمبر 2019 میں ملائیشیا کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی ممالک کی ایک کانفرنس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے مدعو ہونے کے باوجود شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ مبصرین نے عمران خان کی شرکت سے معذرت کی وجہ سعودی عرب کا دباؤ قرار دیا تھا۔

منگل کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

اُس موقع پر مہاتیر محمد نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان سے باہمی تعاون سے متعلق جامع مذاکرات ہوئے ہیں، تمام سطح پر وفود کے تبادلوں اور دوروں پر اتفاق اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاع اور تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے سمیت تجارتی رکاوٹوں کو دور کر کے باہمی تجارت پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ مسلم اُمّہ کو درپیش چیلنجوں کے لیے دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے دورۂ ملائیشیا کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے اور ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا مختلف شعبوں میں تعلقات کو مستحکم کریں۔

'کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتا تھا'

عمران خان نے ملائیشیا کی میزبانی میں گزشتہ برس دسمبر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے کچھ دوستوں نے، جو پاکستان کے بھی بہت قریب ہیں، یہ سمجھا کہ یہ کانفرنس اسلامی ممالک کو تقسیم کر دے گی۔ یہ غلط فہمی تھی۔ کوالالمپور کانفرنس کا مقصد اسلامی ممالک کو تقسیم کرنا نہیں تھا۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے دسمبر 2019 میں ہونے والی کانفرنس میں مدعو ہونے کے باوجود آخری وقت میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے تھے اور کانفرنس میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ تمام اسلامی ممالک مغربی اور دیگر ملکوں کو پیغمبرِ اسلام کے صحیح پیغام سے آگاہ کریں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے جموں و کشمیر دنیا کی سب بڑی جیل بنا ہوا ہے اور وادی کی صورتِ حال انتہائی سنگین ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت، کشمیر کاز پر پاکستان کی حمایت کرنے پر ملائیشیا کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔
وزیر اعظم عمران خان اور ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق، وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق، حالیہ برسوں کے دوران اسلام آباد اور کوالالمپور کے تعلقات گہرے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا یہ ملائیشیا کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل اگست 2018 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اسی سال نومبر میں وہ ملائیشیا کے دورے پر گئے تھے۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے مارچ 2019 میں پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG