رسائی کے لنکس

حکومت کی ناکامیاں، 2020 میں سیاسی تبدیلی ضرور آئے گی: مشاہد حسین


سینیٹر مشاہد حسین سید

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ 2020 میں انتخابات ہوں یا نہ ہوں۔ البتہ نیا سال سیاسی تبدیلی کا سال ہو گا۔ ان کے بقول حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اُن کا رخ مستقبل کی بجائے ماضی کی طرف ہے۔

لاہور میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشاہد حسین سید نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزراء رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کی گرفتاریوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی یہ حربے استعمال ہوتے رہے جو ناکام رہے ہیں۔

'کوالالمپور نہ جانا مدر آف آل یوٹرنز تھا'

مشاہد حسین سید نے 'کوالالمپور سمٹ' میں یقین دہانی کرانے کے بعد نہ جانے کے فیصلے کو عمران حکومت کا سب سے بڑا یوٹرن بھی قرار دیا۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ عمران خان نے نیویارک میں ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد، ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ مل کر اس کانفرنس کی منصوبہ بندی کی۔

ان کے بقول ملائیشیا نہ جانا زیادتی تھی اور پاکستان نے ان ممالک کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا جو چٹان کی طرح کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑے تھے۔ مشاہد حسین کہتے ہیں کہ "آپ وعدے پورے نہیں کریں گے تو آپ کی زبان پر کون یقین کرے گا۔ میں کانفرنس میں موجود تھا۔ ہماری بہت بدنامی ہوئی اور مذاق اُڑایا گیا۔"

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ کوالالمپور کی شاہراہوں پر اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ جن میں عمران خان بھی شامل تھے۔

سینیٹر مشاہد حسین بولے کہ پاکستان نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی ممالک کا ٹی وی چینل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے بقول "یہ بہت بڑی سفارتی غلطی تھی۔ یہ مدر آف آل یوٹرنز تھا۔ جس سے پاکستان کو نقصان ہوا۔"

خیال رہے کہ کوالا لمپور سمٹ کا اہتمام 19 سے 22 دسمبر کے دوران کیا گیا تھا۔ جس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، ایران کے صدر حسن روحانی، قطر کے امیر سمیت مختلف اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

سعودی عرب نے اس کانفرنس کے انعقاد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے متوازی قرار دیا تھا۔ البتہ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے اس تاثر کی نفی کی تھی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباؤ میں آ کر اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ترک صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب نے وہاں مقیم 40 لاکھ پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

البتہ اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے نے ترک صدر کے اس بیان کی تردید کی تھی۔

لیکن مشاہد حسین سید پرامید ہیں کہ سعودی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد یہاں او آئی سی اجلاس بلانے کا اعلان خوش آئند ہے۔ جس کا بنیادی ایجنڈا جموں و کشمیر ہو گا۔

'نیب قانون ناقص ہے'

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون پر سب کو اعتراض تھا۔ یہ غلط قانون تھا۔ اس سے صرف حزبِ اختلاف کو سیاسی انتقام کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ "میں اسلام آباد میں رہتا ہوں آپ کی جتنی بیورو کریسی ہے اس نے کام چھوڑ دیا تھا۔ فائلوں پر دستخط تک نہیں ہو رہے تھے۔ کاروباری طبقہ سرمایہ کاری نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے اصلاح پر سب متفق ہیں۔"

اُن کے بقول، سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو نیب کے اسی ناقص قانون کے تحت قانونی عمل سے گزارا گیا۔ اُنہیں گرفتار پاناما کیس میں کیا گیا لیکن جب کوئی ثبوت نہ ملا تو اقامہ کیس میں نا اہل قرار دیا گیا۔

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ نیب قانون سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی تھی اور اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس قانون میں موجود خامیوں کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگ عرصہ دراز تک نیب کی حراست میں رہتے تھے۔ محض الزام لگنے پر کسی کو فوری طور پر حراست میں لے لینا اور مسلسل ریمانڈ میں رکھنا ناانصافی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے مطابق اگر حکومت نیب قانون میں ترمیم کا معاملہ پارلیمان میں لا رہی ہے تو سب کو مل بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ اس پر اتفاق رائے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

'پارٹی کسی مصلحت کا شکار نہیں'

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد کسی مصلحت کا شکار نہیں۔ پارٹی ایک نئے دور سے گزر رہی ہے۔

مشاہد حسین بولے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ان پر کوئی الزام نہیں تھا۔ لیکن اچھا ہوا کہ عدالتوں نے انہیں ریلیف دیا۔

پارٹی قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کی خاموشی کے سوال پر مشاہد حسین نے کہا کہ نواز شریف لندن میں زیرِ علاج ہیں۔ لہذٰا شہباز شریف کی ساری توجہ اپنے بڑے بھائی کے علاج پر مرکوز ہے۔

اُن کے بقول، "شہباز شریف ہی وطن واپس آ کر پارٹی کی کمان سنبھالیں گے اور 2020 میں پارٹی ملک کی سیاست میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔"

'کشمیر پر ٹھوس حکمت عملی نہیں بنا سکے'

مشاہد حسین نے کہا کہ اس وقت بھارت عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ پہلے اس نے کشمیر کے معاملے پر ایک متنازع اقدام کیا اور پھر شہریت بل والا پنڈورا باکس کھول دیا۔

"عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی میڈیا، امریکی کانگریس، تھنک ٹینکس بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن بدقسمی سے پاکستان اس صورتِ حال سے فائدہ نہیں اٹھا پایا۔ آج کے دور میں سفارتی جنگ میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ذریعے جیتی جاتی ہے۔"

مشاہد حسین کا مزید کہنا ہے تھا کہ کشمیر سمیت بھارت کے اپنے عوام سراپا احتجاج ہیں۔ 1971 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن پاکستان اس نادر موقع سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکا۔

بھارت میں شہریت بل کے خلاف مظاہرے کئی روز سے جاری ہیں۔ (فائل فوٹو)
بھارت میں شہریت بل کے خلاف مظاہرے کئی روز سے جاری ہیں۔ (فائل فوٹو)

'پاکستان، چین اقتصادی راہداری میں رکاوٹیں تھیں'

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے آغاز میں پاکستان، چین اقتصادی راہداری منصوبہ سست روی کا شکار ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غیر ملکی دباؤ نہیں تھا لیکن اندرونی سطح پر رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے ہاں ایسے منصوبوں کو فرد واحد سے منسوب کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کو لگا کہ یہ منصوبہ نواز شریف کا ہے۔ لہذٰا اس میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔"

ان کے بقول، رواں برس وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ چین اور نومبر میں مشترکہ اجلاس کے بعد معاملات بہتر ہوئے۔ اور اب سی پیک پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بلکہ اب اس کا فیز ٹو شروع ہو چکا ہے جس میں چین کے تعاون سے پاکستان میں تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔

امریکی معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کے سی پیک سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ ان کا بیان حقائق کے منافی تھا۔ سی پیک کے تحت پاکستان پر قرضوں کا بوجھ نہیں پڑے گا۔

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ ایلس ویلز کا یہ کہنا بھی غلط تھا کہ چین پاکستان کو امداد نہیں دیتا۔ چین نے حال ہی میں پاکستان کو سوشل سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر امداد دی ہے۔ اس کے علاوہ 250 ملین ڈالر گوادر بندرگاہ کے لیے دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ چینی ورکرز کی وجہ سے پاکستانیوں کو روزگار نہیں ملے گا۔ حالانکہ سی پیک کی وجہ سے 75 ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملا۔ یہاں صرف چینی ماہرین ہیں اور تکنیکی عملہ ہے۔ جن کی تعداد 20 ہزار سے کم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت ملنے والے قرضوں کو حجم پاکستان کے مجموعی قرضوں کا محض سات فی صد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG