رسائی کے لنکس

عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم اپنا کام جاری رکھے۔

حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں ٹیم میں اسٹیٹ بینک او سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ارکان کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

پیر کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حسین نواز کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔

وزیراعظم کے صاحبزادے کی طرف سے خواجہ حارث وکیل کے طور پر پیش ہوئے جنہوں نے بینچ کو بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کا رویہ توہین آمیز ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ یہ ٹیم سپریم کورٹ نے منتخب کی ہے اور کسی بھی رکن کی دیانت پر شبہ ہو تو اسے سامنے لایا جائے اور ان کے بقول ٹیم کے ارکان کے خلاف تحفظات کا قابل جواز ہونا ضروری ہے۔

حسین نواز کو اعتراض تھا کہ دو ارکان شریف خاندان سے مخاصمت رکھنے والوں کے مبینہ قرابت دار ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا لیکن حسب روایت عدالتی کارروائی کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی سب سے بڑی ناقد حزب مخالف کی پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے علیحدہ علیحدہ گفتگو میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات پر مبنی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔

تحریک انصاف کے ایک راہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حسین نواز نے ان دو ارکان پر اعتراض کیا جو ملک میں وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں اور کسی پر صرف اس بنا پر اعتراض کرنا کہ اس کا کہیں نہ کہیں دو پار سے تعلق تحریک انصاف سے نکلتا ہے یہ ان کے بقول صرف تحقیقاتی ٹیم پر اثر انداز اور کارروائی کو طول دینے کی کوشش ہے۔

تاہم وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حسین نواز اعتراض کے باوجود اتوار کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے اعتراضات پر قانون کے مطابق عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور شریف خاندان ہر طرح سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ کمیٹی اپنا کام شروع کر چکی ہے اور اسے 60 روز میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کرنی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG