رسائی کے لنکس

عام جرائم میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہ کریں: سپریم کورٹ


فائل فوٹو

بینچ میں شامل جسٹس دوست محمد خان نے فیصلے میں لکھا ہے کہ قتل کے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے سے مقتول کے لواحقین قصاص اور دیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے تمام ذیلی عدالتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عام جرائم کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے سے گریز کریں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ بات لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہی۔

اپریل 2001ء میں گوجرانوالہ کے گاؤں بہروپ گڑھ میں ایک کم سن بچی سمیت چار افراد کو قتل اور دیگر نو کو زخمی کرنے کے الزام میں چھ افراد کے خلاف دائر مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعات چھ اور سات (اے) کو شامل کر کے مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت چلایا گیا تھا۔

بعد ازاں مئی 2009ء میں لاہور ہائی کورٹ نے ان مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف ملزمان نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔

تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالتیں اس بات سے صرفِ نظر نہ کریں کہ سخت گیر عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے بنائے گئے قانون کا دائرہ آزادانہ طور پر قتل اور اقدامِ قتل کے جرائم تک بڑھا دیا جائے چاہے اس کی وجہ یا محرکات کچھ بھی ہوں، لیکن اس کا دہشت گردی یا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس دوست محمد خان نے 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ قتل کے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے سے مقتول کے لواحقین قصاص اور دیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

جسٹس خان نے مزید لکھا ہے کہ اگر کبھی قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرنا لازمی ہو تو وہاں 'دہشت گرد' اور 'دہشت گردی' کا لفظ استعمال نہیں ہوگا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عدالتوں کو فوری طور پر ایسے جرائم کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دینے کا نتیجہ اخذ نہیں کر لینا چاہیے اور ان جرائم کو زبردستی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت نہیں دیکھنا چاہیے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ قانونی ماہرین بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان میں جہاں نظامِ عدل میں اصلاحات ضروری ہیں وہیں تفتیش اور پولیس کی طرف سے مقدمات کے اندراج کے طریقۂ کار کے لیے بھی اصلاحات اور تربیت کی اشد ضرورت ہے۔

ماہرِ قانون مرزا شہزاد اکبر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسے سخت قوانین جو انتہائی سنگین جرائم کے لیے بنائے گئے، وہ وقت کے ساتھ ساتھ عام جرائم پر بھی لاگو کیے جانے لگے کیوں کہ ایسی دفعات کے تحت مقدمہ کی شنوائی جلدی ہوتی ہے، سزائیں سخت ہوتی ہیں اور ضمانت بھی نہیں ملتی۔

"یہ تنبیہ استغاثہ کے لیے بھی ہے کہ وہ مقدمات کو ایسے ہی آگے نہ لائیں اور ساتھ ہی ساتھ ماتحت عدالتوں میں ججز بھی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں کہ کیا واقعی دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے۔ ججز آنکھیں بند کر کے جو استغاثہ مقدمہ لے کر آتا ہے اس کو من و عن تسلیم نہ کرلیں بلکہ باریک بینی سے اس کا مشاہدہ کریں۔"

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور تنبیہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ نظامِ عدل میں پوری طرح سے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

شہزاد اکبر کے بقول ایسے معاملات میں ذمہ داری ضلع کی سطح پر سیشن ججز کی بنتی ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں اگر لوگوں کے ساتھ مقدمات میں زیادتی کی جا رہی ہے تو اسے روکیں۔ اس سے مقدمات میں کافی بہتری آئے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG