رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ باہمی تعلقات کو افغانستان کے تناظر میں نہ دیکھے: خواجہ آصف


(فائل)

خواجہ آصف نے اقتصادی فورم میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع خطاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کوئی بہتری آ سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے وہ اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ بہت جلد امریکہ، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے دونوں ملکوں کے براہِ راست باہمی تعلقات پر توجہ دے گا۔

ان کے بقول، "(ہمارے) باہمی تعلقات ہمارے خطے کے ایک ہی مسئلے سے جڑے نہیں ہونے چاہئیں۔"

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے 'سی این بی سی' کو سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی جہاں وہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

خواجہ آصف نے اقتصادی فورم میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع خطاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کوئی بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "میں کھل کر بات کروں گا کہ جو کچھ ہم گزشتہ ایک سال سے سن رہے ہیں، ہم توقع نہیں کرتے کہ وہ جو کچھ کہیں گے وہ اس سے کوئی بہت زیادہ مختلف ہو گا جو وہ پہلے سے کہہ رہے ہیں۔"

تاہم وزیرِ خارجہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں واشنگٹن اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے یہ تشویش ہے کہ وہ ایسی سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا، "انہیں (تعلقات کو) دوبارہ استوار کیا جا سکتا ہے۔ اور اس بارے میں (انہیں) کوئی شک نہیں ہے۔"

امریکہ کے صدر رواں ہفتے ڈیووس پہنچیں گے جہاں عالمی سیاسی اور کاروباری رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ صدر ٹرمپ جمعے کو اس اجلاس سے خطاب کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے یکم جنوری کو اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ امریکہ نے حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ 15 برسوں کے دوران پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی لیکن اس کی بدلے میں پاکستان سے سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں ملا۔

دوسری طرف پاکستان کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سردی مہری کا شکار رہے ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ان مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرے جو افغانستان میں عسکری کارروائیوں کی لیے مبینہ طور پر اس کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔

اسلام آباد تواتر کے ساتھ ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ ملک میں شدت پسندوں کے ایسی پناہ گاہیں موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز ملک کے قبائلی اور دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھی ہوئی ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان کئی اعلی سطح کے رابطے ہوئے ہیں اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایسے رابطے معاون ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG