رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گرد تنظیموں پر پابندی کی نگرانی، سلامتی کونسل کے وفد کا دورۂ پاکستان


ایک شخص حافظ سعید کی فلاح انسانیت فاونڈیشن کے چندہ جمع کرنے کے اسٹال پر بیٹھا ہے (فائل)

امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیرات سے متعلق کمیٹی کا ایک وفد ان افراد اور تنظیموں کے خلاف پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے رواں ہفتے اسلام آباد کا د ورہ کرے گا جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔

اگرچہ سلامتی کونسل کی کمیٹی کے وفد کے اس دورے کے بارے میں تاحال پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کالعدم شدت پسند تنظیموں کے خلاف کیے گئے اقدامات سے اقوام متحدہ کے وفد کو آگاہ کریں گے۔

یہ کمیٹی ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہی ہے جب امریکہ اور بھارت کی طرف سے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

مجھے پاکستان کی عدالتوں نے بری کیا ہے: حافظ سیعد

بھارت 2008 ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام حافظ سعید پر عائد کرتا ہے لیکن حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

دوسری طرف حافظ سعید نے ان خدشات کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے وفد کے دور پاکستان کے دوران حکومت ان کے خلاف کارروائی کر انہیں گرفتار کر سکتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو پابند کرے کی وہ ان کے خلاف ایسا کوئی اقدام نہ کرے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تناظر میں اقوام متحدہ کے وفد کا پاکستان کا دورہ کرنا نہایت اہم ہے۔

"یہاں (اسلام آباد ) ان کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گرد گروپوں اور شدت پسندی کے حوالے سے گزشتہ ایک سال سے جو معاملات اٹھائے جاتے رہے ہیں ان پر وہ (پاکستانی حکام سے ) بات کریں گے۔ ان میں دونوں قسم کے گروپ ہیں۔ ان میں وہ افغان شدت پسند گروپ بھی ہیں جن سے منسلک عناصر مبینہ طور پر پاکستان آتے رہتے ہیں اور اس کے علاوہ بھارت اس کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے حافظ سعید اور دیگر شدت پسند گروپوں کے بارے میں بھی بات ہو گی۔"

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے خبررساں ادارے 'رائٹرز' سے انٹرویو میں جماعت الدعوۃ اور اس کے زیرِ انتظام چلنے والے فلاحی ادارے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ حکومت اُن اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے لیے پرعزم ہے جن پر اقوام متحدہ نے تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔

حافظ سعید جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں اور ان دونوں تنظیموں کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی اور امریکہ، دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔

امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG