رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل راحیل نے مزید پانچ دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی


سزائے موت پانے والے مجرمان، ہدف بنا کر اور فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مزید پانچ مجرموں اور ایک کی عمر قید کی سزا کی توثیق کی ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق سزائے موت پانے والے مجرمان، ہدف بنا کر اور فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔

بدھ کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق محمد صابر شاہ عرف اکرام اللہ کو لاہور میں ایک وکیل ارشد علی کے قتل میں معاونت پر سزائے موت سنائی گئی۔ اس کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے اور اس نے مجسٹریٹ اور ذیلی عدالت میں اپنا جرم قبول کیا تھا۔

حافظ محمد عثمان عرف عباس عرف اسد بھی ایک کالعدم تنظیم کا فعال رکن تھا اور وہ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ قتل و غارت اور پولیس پر حملوں میں ملوث پایا گیا۔ یہ حسن علی یوسفی، ولائت حسین ایڈووکیٹ اور دیگر شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ سید طالب آغا اور سید جواد آغا نامی دو صنعتکاروں کے قتل میں معاون تھا۔ اسے 11 الزامات میں مقدمے کا سامنا تھا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی۔

سزائے موت پانے والے تیسرے مجرم کا نام اسدعلی عرف بھائی جان بتایا گیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا رکن تھا اور وہ کراچی میں سندھ پولیس کے حکام پر حملوں میں ملوث تھا۔ ان حملوں میں ایک ڈی ایس پی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہلاک ہوگئے تھے۔

طاہر نامی مجرم کا تعلق بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور وہ بنوں کی جیل پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔ اپریل 2012ء میں ہونے والے اس حملے میں متعدد انتہائی اہم دہشت گرد فرار ہو گئے تھے۔ اس پر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی ثابت ہوا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

ایک اور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے فتح خان کو بھی فوجی عدالت نے سزائے موت دی ہے۔ یہ مجرم سکیورٹی فورسز، شہریوں اور انسداد پولیو کی ٹیموں پر ہلاکت خیز حملوں میں ملوث پایا گیا تھا۔

قاری امین شاہ عرف امین کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور وہ خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملے اور دہشت گرد کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی جنرل راحیل شریف نے سات دہشت گردوں کی موت کی سزاؤں کی توثیق کی تھی جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ ان میں سے چھ گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہلاکت خیز حملے جب کہ ایک 2011ء میں کراچی میں رینجرز پر مہلک حملے میں ملوث تھا۔

رواں سال کے اوائل میں پارلیمان نے آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔

ان عدالتوں سے اب تک 18 دہشت گردوں کو سزائے موت اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

وکلا کی بعض تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا لیکن گزشتہ ماہ ہی عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان فوجی عدالتوں کو برقرار رکھا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائیوں میں مجرموں کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے اور ان سزاؤں کے خلاف وہ اپیل کا حق بھی رکھتے ہیں۔

رواں ہفتے ہی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام کو برقرار رکھے جانے کے فیصلے کے بعد مزید تیزی سے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے جب کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ کراچی میں پہلے سے قائم فوجی عدالتوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں کے علاوہ پاکستانی فورسز خاص طور پر رینجرز کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG