رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کے صدر دفتر میں اہم اجلاس، ملکی و علاقائی سلامتی پر غور


اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسوں اور اُن کے سہولت کاروں کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی عدم موجودگی میں منگل کو ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت اور حکومت کے عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں ہوا، جس میں داخلی سلامتی اور علاقائی صورت حال پر غور کیا گیا۔

اس اہم اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل رضوان اختر کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کے بعد لندن ہی میں ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق وہ کم از کم مزید دو ہفتے تک قیام کریں گے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ شرکا نے ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے اُمور کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحفظ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

شرکا نے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عسکری کارروائیوں کے باعث حاصل ہونے والے اہداف کو مستحکم بنایا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسوں اور اُن کے سہولت کاروں کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان کے مطابق عسکری اور سویلین قیادت نے 21 مئی کو بلوچستان میں کیے گئے امریکی ڈرون حملے کو ملک کی حدود کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نا صرف باہمی اعتماد متاثر ہوا بلکہ اس سے افغان امن کے لیے چار ملکی گروپ کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا۔

گزشتہ ماہ بلوچستان میں کیے گئے ڈرون حملے کا ہدف افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور تھے۔ میزائل حملے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد پہلے ہی پاکستانی عہدیدار کہہ چکے ہیں اس سے افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

XS
SM
MD
LG