رسائی کے لنکس

راجگال وادی میں فوج کا مزید پیش رفت کا دعویٰ


ہفتے کو فوج نے بریخ چوٹی کا قبضہ واگزار کرایا تھا

اتوار کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سپنکئی چوٹی میں واقع درہ سپرئی اور ستی کلے کے علاقے اب فوج کے کنٹرول میں ہیں۔

پاکستان کی فوج نے افغان سرحد سے ملحقہ راجگال وادی میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی "آپریشن خیبر فور" میں دو اہم ٹھکانوں سے دہشت گردوں کو مار بھگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اتوار کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سپنکئی چوٹی میں واقع درہ سپرئی اور ستی کلے کے علاقے اب فوج کے کنٹرول میں ہیں۔

بیان میں فرنٹیئر کور خیبر کے آئی جی میجر جنرل شاہین مظہر محمود کے حوالے سے بتایا گیا کہ فوج کے توپ خانے اور فضائی حملوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا اور عسکریت پسند اب پسپا ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول آپریشن خیبر فور منصوبے کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اس سے قبل ہفتے کو فوج نے اعلان کیا تھا کہ فوجی کارروائی کے دوران ایک اہم چوٹی بریخ محمد کنڈاؤ پر قبضہ بھی واگزار کروا لیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر فور کے دوان دو فوجی اہلکار مارے گئے جب کہ 250 مربع کلومیٹر میں سے 90 مربع کلومیٹر کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

آپریشن سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے کیونکہ علاقے تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی تقریباً ناممکن ہے۔

رواں ماہ اس آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس کا مقصد سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں خصوصاً داعش کے اثرورسوخ کو وادی راجگال کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔

ان کے بقول یہ آپریشن ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے خلاف جاری کارروائی "ردالفساد" کا ہی حصہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG