رسائی کے لنکس

’امریکی ایکشن کی صورت میں جواب عوامی امنگوں کے مطابق ہو گا‘


پاکستان فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور، فائل فوٹو

علی رانا

پاکستان فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نےکہا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف امریکی ایکشن ہوا تو اس کا جواب پاکستان کے عوام کی امنگوں کے مطابق دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں ان کے اثرات آنے والے وقت میں نظر آئیں گے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے اس بیان سے قبل مختلف ٹی وی چینلز کے شام 8 بجے کے پروگراموں میں براہ راست بات بھی کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے وقار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکی صدر کے بیان پر قومی رد عمل خو ش آئند ہے جب کہ بھارت سے درپیش مسائل کے حل کے بغیر خطے میں امن مشکل ہے۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے امریکی صدر کے پاکستان سے متعلق بیان پر قومی رد عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ اب بھی دوست ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے جب کہ ہم امریکہ سے تعاون کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں اور ایسے مواقعوں کی لمبی فہرست موجود ہے جس میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا، ایک وقت تھا ہمارے پاس چوائس تھی کہ روس کے پاس جائیں۔

میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ اتحادی سپورٹ فنڈ افغانستان کی جنگ کے لیے تھا۔ افغانستان میں ایک کھرب ڈالرخرچے کا نتیجہ سب کو معلوم ہے اور آج بھی ہماری 2 لاکھ سے زائد فوج سرحد پر موجود ہے۔ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کے تحت حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی آپریشن کیا اور کسی آپریشن کے نتائج فوری طور پر نہیں آ جاتے جب کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن آنے والا وقت بتا سکتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت سے درپیش مسائل کے حل کے بغیر خطے میں امن مشکل ہے کیوں کہ جب ہمارے قدم کامیابی کی طرف بڑھ رہے تھے تو کلبھوشن کا معاملہ آ گیا اور بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ملیں اور وہ امن کی جانب بڑھتا رہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا بیک گراؤنڈ بھارتی ہے۔

واضح رہے نیکی ہیلی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ برسوں سے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔

پاکستان میں یہ تاثر عام پایا جا رہا ہے کہ امریکی حکام پاکستان کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ اسی بات کے پیش نظر پاک فوج کے ترجمان نے براہ راست پہلی بار یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی امریکی ایکشن کے نتیجے میں جواب پاکستانی عوام کی خواہش کے مطابق ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG