رسائی کے لنکس

پاکستان فوجی بجٹ کو شفّاف بنائے: ایشیا سوسائٹی


پاکستان فوجی بجٹ کو شفّاف بنائے: ایشیا سوسائٹی

سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ماضی کی ترجیحات میں تبدیلی لائے بغیر مستقبل میں بہتری ممکن نہیں۔ اس کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی دیر پا حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی

ایک نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے اور اُسے اگلے دس سال میں مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے جمہوری اداروں کو مضبوط بنایا جائے، انڈیا کے ساتھ کشیدگی دور کی جائے، ملک میں قانون کی بالادستی ہو اور صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

ایشیا سوسائٹی کے پاکستان 2020 اسٹڈی گروپ کی طرف سے بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں سات ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔

اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سکیورٹی اورخارجہ پالیسی کےحوالےسےماضی کی ترجیحات میں تبدیلی لائے بغیر مستقبل میں بہتری ممکن نہیں اوراس کے لیےحکومت پاکستان کےساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی دیرپا حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔

پاکستان 2020 اسٹڈی گروپ میں صحافیوں، سفارت کاروں اور سابق جرنیلوں سمیت پاکستان اور امریکہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ تیس ماہرین شامل ہیں۔ اس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن عباس کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ان تمام لوگوں کی آراء کا نچوڑ ہے اور اس میں مسائل و مشکلات کا احاطہ کرکے ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فوجی بجٹ کو شفّاف بنایا جائے اور پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کیا جائے۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی ڈھانچوں میں بھی باقاعدہ انتخابات کی روایت ڈالیں اور اپنے لیڈروں کی مدّت میعاد مقرر کریں۔

بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے اس رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ سنہ 2020 تک بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کا ہجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کی جائے، ویزوں کو آسان بنایا جائے اور دونوں ملک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے پر اتفاق کریں۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کی اہمیت اور اس شعبے میں پاکستان کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے رپورٹ میں سیلاب کے بعد تعمیر نو کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے اور متاثرین کو اپنے روزگار پر بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور پاکستان کے ساتھ ایسے دیر پا تعلقات بنائے جن میں جمہوری اداروں کے استحکام کو ترجیح دی جائے۔

ڈاکٹر عباس کے مطابق اس رپورٹ کو امریکہ اور پاکستان کے بااثر حلقوں میں پیش کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG