رسائی کے لنکس

ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور دیگر بلوچ خواتین کو رہا کردیا گیا


وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کالعدم بلوچ تنظیم کے ایک راہنما کی اہلیہ کو بلوچی روایت کے مطابق سر پر چادر رکھ کر احترام سے رہا کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ڈاکٹراللہ نذر کی اہلیہ سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کوپیغام دیں کہ برادرکشی ٹھیک عمل نہیں جنگ لڑنامردوں کا کام ہے اورجنگ میں بچوں اورخواتین کو استعمال کرنابزدلی ہے۔

ستارکاکڑ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ریاست کے خلاف بر سرپیکار کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اسلم بلوچ کی بہن سمیت چار خواتین اور بچوں کو جمعے روز رہا کر دیا ہے۔

صوبائی محکمہ تعلقا عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دنوں پاک افغان سرحد سے بغیرقانونی دستاویزات کے سرحد پارکرنے کے الزام میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لی جانے والی خواتین نے ،جن میں ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر کی اہلیہ اوربچے بھی شامل تھے ، وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری سے ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ نے بلوچی رسم ورواج کے مطابق خواتین کے سرپرچادر ڈالی اور انہیں بھرپورعزت واحترام دیا جبکہ خواتین اوربچوں کی حراست کو ختم کرتے ہوئے انہیں کالعدم تنظیم کے کمانڈر کی اہلیہ کے بھائی کے سپرد کردیاگیا۔

بیان میں مزید بتا یا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ڈاکٹراللہ نذر کی اہلیہ سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کوپیغام دیں کہ برادرکشی ٹھیک عمل نہیں جنگ لڑنامردوں کا کام ہے اورجنگ میں بچوں اورخواتین کو استعمال کرنابزدلی ہے۔

اس ملاقات کے تھوڑی دیر بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہی پر یس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے میڈیا کو پاک افغان سرحد پر نصب خفیہ کیمروں کی فوٹیج دکھائی جس میں دو عام خواتین برقعہ پہنی ہوئی پاک افغان سرحد عبور کر رہی ہیں۔

وزیر اعلی بلوچستان کالعدم بلوچ گروپ کے ایک راہنما کے ایل خانہ کے ساتھ
وزیر اعلی بلوچستان کالعدم بلوچ گروپ کے ایک راہنما کے ایل خانہ کے ساتھ

وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہی دو خواتین ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور اسلم بلوچ کی بہن تھیں جن کو وہاں سے حراست میں لیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ کے بقول ڈاکٹر اللہ نذر اور اُن کے ساتھی افغانستان میں موجود ہیں اس لئے یہ خواتین بھی وہاں جارہی تھیں تاہم اس حوالے سے وزیر داخلہ صحافیوں کو مطمئن نہیں کر سکے ۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ دو خواتین کالعدم بلوچ عسکر ی تنظیموں بی ایل ایف اور بی ایل اے کےلئے بقول اُن کے پیسوں کی تر سیل اور تقسیم میں بھی ملوث رہی ہیں لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ نے ان خواتین کو رہا کرنے کا حُکم دیا۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں سی ایم نواب ثنا ءاللہ زہری سے ملاقات اور اس کے بعد ان خواتین کو چادر پہناتے وقت چار فوٹو گرافروں کو تصاویر لینے کےلئے کہا گیا تھا اور جب یہ تصاویر میڈیاکو جاری کی گئیں تو اسی وقت شوشل میڈیا پر بھی وائر ل ہوئیں جس پر مختلف حلقوں نے صوبائی حکومت پر ان خواتین کی تصاویر جاری کرنے پر شدید خفگی اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔

دوسری طرف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چئیر مین ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ سمیت دیگر خواتین کو کو ئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ سریاب سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ فضیلہ مشکے میں سیکیورٹی اداروں کی ایک کاروائی کے دوران زخمی ہوگئیں تھیں وہ یہاں کو ئٹہ اپنے علاج کے سلسلے میں آئی ہوئی تھیں کہ اُن کو حراست میں لیا گیا ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG