رسائی کے لنکس

بلوچستان کی ترقی کے لیے دس سالہ پیکج کا اعلان


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ساتھ۔ 14 نومبر 2017

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایک ایسے وقت میں بلوچستان کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب صرف چالیس دنوں میں ملک کے اس جنوب مغر بی صوبے میں تین خون ریز حملے ہو چکے ہیں۔

ستارکاکڑ

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے صوبہ بلوچستان کے اپنے دورے میں صوبے کے پس ماندہ علاقوں کی تیز تر ترقی کے لیے ایک دس سالہ پیکج کا اعلان کیا جس کے اخراجات وفاقی اور صوبائی حکومتیں ادا کریں گے۔

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں عوام کی منتحب حکومت قائم ہے اور پاکستان میں ہمیشہ آئین وقانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔

ایک روزہ مختصر دورے کے اختتام پر کو ئٹہ میں پر یس کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم نے اپوزیشن کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کا براہ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ ملک میں سیاسی حوالے سے فی الحال کو ئی تبدیلی نہیں آرہی۔ اُن کے بقول،سیاسی حوالے سے ملک میں کو ئی تبدیلی نہیں آرہی حکومت کام کر رہی ہے اور وہ جون میں اپنی مدت پوری کرے گی ۔ اُس کے بعد دو ماہ میں الیکشن ہوں گے اور نئی حکومت کے قیام کے بعد جمہوریت آگے بڑھتی رہے گی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر بلوچستان کے لئے دس سالہ پیکیج کا بھی اعلان کیا جس کے تحت صوبے کے پس ماندہ یونین کونسلوں کو ملک کے دیگر صوبوں کے یونین کو نسلوں کی سطح پر لانے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے اور ہر یونین کو نسل کے لوگوں کو تعلیم، صحت کی سہولیات، پینے کا صاف پانی، گیس اور بجلی فراہم کی جائے گی جس کے اخراجات وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر برداشت کرے گی۔

وزیر اعظم عباسی کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ 14 نومبر 2017
وزیر اعظم عباسی کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ 14 نومبر 2017

اس سے پہلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران صوبے میں امن وامان کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان کے راستے ایران اور عراق جانے والے شیعہ زائرین کو سیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر تفصيل سے غور کیا گیا اور وزیراعظم نے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایک ایسے وقت میں بلوچستان کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب صرف چالیس دنوں میں ملک کے اس جنوب مغر بی صوبے میں تین خون ریز حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے دو خودکش حملے پولیس اور ایک ضلع جھل مگسی کی ایک مذہبی درگاہ پر کیا گیا۔ ان حملوں میں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر سمیت 35 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان تینوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحر یک طالبان پاکستان قبول کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG