رسائی کے لنکس

logo-print

کیا بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات واقعی بہتر ہو رہے ہیں؟


ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نے منگل کو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کی تھی۔

بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے رواں ہفتے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کی ہے۔ تجزیہ کار اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری کے شکار تعلقات میں بہتری کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خطے کی بڑی معاشی طاقت چین دونوں ملکوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی نے رواں ہفتے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سالوں میں تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کے بعد رواں سال سفارتی سطح پر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان کے مندوب اور بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مابین رواں ہفتے ہونے والی اس ملاقات کو خطے کی تیزی سے بدلتی صورتِ حال میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ عرصے میں بھارت کی چین اور پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کی سیاست میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رُونما ہوئی ہیں۔

پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ میں بھی اس ملاقات کو بھرپور کوریج دی گئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کی جانب سے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین سیکریٹری خارجہ کی سطح پر بات چیت کے جلد آغاز کی بھی اُمید ظاہر کی جا رہی ہے۔

تاہم بعض زرائع ابلاغ نے اس ملاقات کے حوالے سے ڈھاکہ میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے اس حصے کو شہ سرخی میں شامل کیا ہے جس میں حسینہ واجد نے کہا تھا کہ 1971 کے مظالم کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

پاکستان کے سفارتی ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہائی کمشنر نے بنگلہ دیشی وزیراعظم کی اس گفتگو پر کہا کہ یہ بات 1974 کے سہ فریقی معاہدے میں لکھی جا چکی ہے اور اب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے رواں سال کے آغاز سے نظر آنا شروع ہوئے جب جنوری میں بنگلہ دیش اور پاکستان نے 20 ماہ سے التوا کا شکار ہائی کمشنر کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا۔

رواں سال جولائی میں وزیر اعظم عمران خان نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور باہمی اعتماد، احترام اور برابری کی بنیاد پر برادرانہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی حکومت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

بنگلہ دیش کے اردو بولنے والے مہاجرین
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

تاریخی اعتبار سے بنگلہ دیش کے پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی موجود نہیں رہی ہے۔ تاہم 2009 میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد 1971 میں پاکستان کے حامی رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات چلانے پر دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کو نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان مراسم میں تناؤ کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے جو بھارت کی جانب سے متنازع شہریت قانون کی منظوری کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔

کشمیر کی خودمختار حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے خلاف بھی بنگلہ دیش میں بھارت مخالف عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

'پچاس سال سے الجھاؤ کا شکار تعلقات میں بہتری لانا آسان نہیں'

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ ڈھاکہ نے نئی دہلی کے عزائم کو بھانپ لیا ہے جو خطے میں بالادستی پر مبنی ہیں۔ اُن کے بقول نیپال اور سری لنکا بھارتی بالادستی کو قبول نہیں کر رہے تو بنگلہ دیش یہ کیسے کر سکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں شمشاد احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں جو برادر ممالک میں ہوتی ہے تاہم عوامی سطح پر اچھے تعلقات برقرار رہے ہیں۔

شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ 1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت بھی بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کا جغرافیائی تعلق نہیں تھا البتہ ذہنی اور قلبی رشتہ تھا جو آج بھی برقرار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ شیخ حسینہ کی حکومت میں اگر پاکستان کے بارے میں نئی سوچ پیدا ہو رہی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔

'حسینہ واجد کو عوامی سطح پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے'

'کونسل فار انڈین فارن پالیسی' کے چیئرمین ڈاکٹر وی پی ویدک کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری آتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ مگر پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ ملاقات میں حسینہ واجد نے یہ بھی کہا کہ 1971 کے ظلم کو بھلا نہیں سکتے۔

تاریخی اعتبار سے بنگلہ دیش کے پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں رہی ہے۔ تاہم 2009 میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد 1971 میں پاکستان کے حامی رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات چلانے پر حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ (فائل فوٹو)
تاریخی اعتبار سے بنگلہ دیش کے پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں رہی ہے۔ تاہم 2009 میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد 1971 میں پاکستان کے حامی رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات چلانے پر حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بھارتی تجزیہ کار نے کہا کہ شیخ حسینہ واجد مثبت سوچ کی حامل رہنما ہیں۔ لیکن اگر وہ پاکستان سے زیادہ قربت اختیار کرتی ہیں تو انہیں عوامی سطح پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ویدک کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں مضبوطی لانا آسان نہیں ہے کیوں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات گزشتہ پانچ دہائیوں سے بہت پیچیدہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ کے بجائے ‘سارک’ کے پلیٹ فارم سے تعلقات میں بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ 'سارک' جنوبی ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون تنظیم ہے جس کے پاکستان اور بنگلہ دیش بھی رُکن ہیں۔

ڈاکٹر ویدک یہ بھی کہتے ہیں کہ شہریت قانون متعصبانہ ہے جس نے بھارت کے سیکولر چہرے کو داغ دار کیا ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات تناؤ کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں سیاسیات کے اُستاد اور سینئر تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے مگر اس کے لیے ماضی سے نکلنا ہوگا جس کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت تیار نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنا پچاسواں یوم آزادی منانے جارہا ہے اور پاکستان چاہتا ہے اس موقع پر پرانے الزامات کو نہ دوہرایا جائے۔

بنگلادیش میں تیرنے والے سکول
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:48 0:00

رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ 2009 میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان، بنگلہ دیش تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے اور ان کے خیال میں موجودہ حالات میں دوطرفہ تعلقات میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔

'چین نے بنگلہ دیش کو پاکستان کے قریب کردیا ہے'

چین کے بنگلہ دیش پر بڑھتے اثرورسوخ کو بھی اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی وجہ سمجھا جارہا ہے۔

بنگلہ دیش، چین کے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے کا حصہ ہے۔ جس کا ابتدائی حصہ 'پاکستان چین اقتصادی راہداری' (سی پیک) کو قرار دیا جاتا ہے۔

سابق سفارت کار شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ حالات کے تغییر نے بنگلہ دیش کو پاکستان کے قریب کردیا ہے اور خطے کو ملانے کے چین کے راہداری منصوبے نے دونوں ملکوں کے درمیان ربط پیدا کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کا فطری اتحاد پاکستان سے بنتا ہے اور اسلام آباد کو اس بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے۔

شمشاد احمد خان نے کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر ہے اور اگر بھارت کی قیادت دانش مندانہ ہوتی تو اس منصوبے کا حصہ بنتی۔ جس سے پورے خطے کی قسمت صحیح معنوں میں بدل سکتی ہے۔

ڈاکٹر وی پی ویدک کا کہنا ہے کہ چین کا خطے میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے جب کہ بھارت پاکستان کے بعد نیپال سے بھی تعلقات خراب کر چکا ہے۔

اُن کے بقول بھارت کے بنگلہ دیش اور افغانستان کے ساتھ مراسم میں بھی پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ خطے کے ممالک کے قریبی تعلقات سے نہ صرف علاقائی مسائل کا حل ممکن ہے بلکہ مشترکہ مسائل سے بھی نبردآزما ہوا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارک کے غیر فعال ہونے کے باعث چین اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور خطے کے ممالک میں اثر و رسوخ بڑھانے کی اس کی حکمت عملی کامیاب جارہی ہے۔

ڈاکٹر وی پی ویدک کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ بھارت کو چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی مخالفت کے بجائے اس کا حصہ بننا چاہیے۔

رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر کئی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں افغان امن عمل کا آغاز قابل ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں پیش رفت اسلام آباد کی بڑی کامیابی ہے جو کہ اب خطے کے ممالک کو پاکستان کے قریب لا رہا ہے۔

خیال رہے کہ چین 'ون بیلٹ، ون روڈ' منصوبے کو رواں صدی کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ قرار دیتا ہے۔ جس کے تحت چین دنیا کے 66 ملکوں کو تجارتی سطح پر سڑک اور ریل کے ذریعے جوڑنا چاہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG