رسائی کے لنکس

’’دکھ تو یہاں بھی بہت ہیں‘‘، کراچی کی روہنگیا برادری


سب سے بڑا مسئلہ، شناخت کا ہے جو، بقول ایک روہنگی باشندے کے، ’’بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جب کہ شناختی کارڈ یا شہریت نہ ملنے سے لاکھوں بچے تعلیم اور نوجوان روزگار سے محروم ہیں‘‘

’’سن 1942ء کے آس پاس جب میانمار اور بنگلہ دیش کے عین وسط میں واقع‘‘ کاکس بازار، ارکان اور اس سے ملحقہ علاقوں کی زمین برمی ۔۔یا۔۔ روہنگیا کے لوگوں پر تنگ ہونے لگی تو انگنت افراد پڑوسی ملک بنگلہ دیش، پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کو ہجرت گئے۔ میانمار کا پرانا نام ’برما‘ تھا۔ ہمارے والد اور چچا، تایا و دیگر قریبی رشتے داروں نے بھی برما یا میانمار سے نکل کر پاکستان میں پناہ لی اور خود کو یہیں کے رنگ میں ڈھال لیا۔‘‘

کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع برمی کالونی کے ایک رہائشی حبیب اللہ نعمان نے ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی بات چیت میں ان باتوں کا اظہار کیا۔

حبیب اللہ نعمان اور ان کے بڑے بھائی حاجی لعل میاں
حبیب اللہ نعمان اور ان کے بڑے بھائی حاجی لعل میاں

ان کا مزید کہنا تھا کہ’’روہنگیا برادری کی اکثریت نے برمی کالونی، کورنگی کا رخ کیا۔ یہ کالونی 1967ء میں آباد ہوئی جبکہ میری پیدائش 1968ء کی ہے۔ بس تبھی سے ہم لوگ یہاں آباد ہیں۔ ہم پیشے کے اعتبار سے سنار ہیں اور روپے پیسے کی کوئی تنگی نہیں۔ لیکن، روہنگیا برادری کی اکثریت آج بھی غریب اور قابل رحم ہے۔‘‘

حبیب اللہ کے بڑے بھائی حاجی لعل میاں جو خود بہت چھوٹی عمر میں اپنے والد اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ برما سے ہجرت کرکے کراچی آئے تھے انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’ہم سابق صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان آئے تھے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’برمی کالونی کا سب سے اہم بازار میں نے ہی آباد کیا تھا اور آج بھی اس کی زمین میرے ہی نام لیز ہے۔ اس دور میں یہ کچی آبادی ہوا کرتی تھی۔ اس بستی کو آباد کرنے میں پیپلز پارٹی اور خاص کر اس کے ایک رہنما این ڈی خان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ‘‘

محمد سلیم نوری
محمد سلیم نوری

حبیب اللہ کے بقول ’’برمی کالونی کی مجموعی آبادی 55 ہزار کے قریب ہے۔ ان میں سے روہنگیا برادری کے افراد کی تعداد اب گھٹتے گھٹتے 1 ہزار خاندانوں تک محدود رہ گئی ہے۔ زیادہ تر افراد سعودی عرب، مسقط، قطر، امارات، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں جا بسے۔ مقصد بہتر مستقبل اور بہتر معاشی حالات کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘

محمد سلیم نوری کراچی میں آباد روہنگیوں کی تیسری نسل سے ہیں۔ انہوں نے گھر والوں سے ہی اپنی آبائی زبان بولنا اور سمجھنا شروع کیا اور آج تک آپس میں اسی کا استعمال کرتے ہیں۔ حبیب اللہ بھی اپنے بیٹے محمد کاشف نعمان اور دیگر اولاد و اہل خانہ سے برمی زبان میں ہی بات چیت کرتے ہیں۔

سلیم نوری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’نوجوان نسل خود کو ’مہاجر‘ یا اردو اسپیکنگ تصور کرتی ہے، کیوں کہ ہم کبھی میانمار یا برما گئے ہی نہیں۔ زبان کے علاوہ ہمارا رہن سہن اور کھانا پینا کراچی والوں سے مختلف نہیں۔‘‘

حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ ’’روہنگیا میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان پر ظلم ہو رہا ہے‘‘۔

حبیب اللہ کے بقول، ہمارا گناہ صرف مذہب ہے جس کی وجہ سے ہم نشانے پر ہیں۔ ’’لیکن، جو لوگ 35 اور 40 سال پہلے یہاں آ بسے تھے ان کی حالت بھی کون سی اچھی ہے۔ انہیں بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ شناخت کا ہے جو بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شناختی کارڈ یا شہریت نہ ملنے سے لاکھوں بچے تعلیم اور نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔‘‘

روہنگیا برادری کی ہی ایک اور بستی ارکان آباد کے دیرینہ مکین بدر عالم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’روہنگیا برادری کے افراد اس لئے بھی زیادہ پریشان ہیں کہ ان کے قریبی رشتے دار میانمار اور بنگلہ دیش میں پھنس گئے ہیں۔ ان کی کوئی خیر خیریت نہیں ملتی۔ ‘‘

ارکان آباد کی آبادی تقریباً 20ہزار ہے۔ یہ لوگ سالوں پہلے یہاں آکر آباد ہوئے۔ لیکن آج کوئی انہیں پاکستانی شناخت دینے پر رضامند نہیں۔

برمی یا روہنگیا عوام کی تنظیم ’برمی مسلم آرگنائزیشن‘ کے روح رواں نور حسین ارکانی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’روہنگیا برادری پاکستان پر بوجھ شمار ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روہنگیا کے لوگ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرر ہے ہیں۔ برادری کے بیشتر افراد مچھیرے ہیں۔ ان کی پکڑی ہوئی مچھلیاں اور دیگر سو فوڈ حکومت بڑے پیمانے پر برآمد کرتی اور ان سے ڈھیروں زرمبادلہ کماتی ہے۔ برادری کی خواتین قالین بانی میں ماہر ہیں۔ انہیں بھی ہر سال لاکھوں اور کروڑوں روپے میں دوسرے ممالک کو برآمد کردیا جاتا ہے۔ لہذا، روہنگیا افراد حکومت یا ملکی معیشت پر بوجھ نہیں۔‘‘

روہنگیا کے افراد برما سے نکل کر پہلے بنگلہ دیش جاتے ہیں اور اس کے بعد انتہائی خطرہ مول لے کر پاکستان پہنچتے ہیں۔ راستے کی جو کچھ بھی پریشانیاں ہیں۔ وہ تو انہیں جھیلنا ہی پڑتی ہیں۔ لیکن، پاکستان آکر بھی یہاں انہیں کئی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حبیب اللہ اور حاجی لعل میاں کے مطابق تین دہائیوں پہلے تک میانمار، بھارت اور بنگلہ دیش سے پاکستان آنا آسان تھا حتیٰ کہ سابق فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں روہنگیوں کا خوش دلی سے خیرمقدم کیا جاتا تھا۔ لیکن، اب ایسا ہرگز ممکن نہیں۔

ایک بنگالی دکاندار
ایک بنگالی دکاندار

حبیب اللہ نعمان نے وائس آف امریکہ کو مزید بتایا کہ ’’پاکستان میں روہنگیا کے لوگ خود کو بنگالی کہتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر لوگ بنگالیوں کی ہی آبادیوں میں رہتے، رہتے مکس ہوگئے ہیں۔ اس کا بظاہر مقصد یہ دکھانا ہے کہ روہنگیا برادری نے بھی سقوط ڈھاکہ سے پہلے پاکستان ہجرت کی تھی۔ وہ پیدائشی طور پر شہریت کا حقدار ظاہر کرنے کے لئے خود کو بنگالی کہتے اور انہی کی طرز پر رہتے ہیں۔‘‘

نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق کراچی میں روہنگیا افراد کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔ لیکن، ماہرین اور کمیونٹی رہنماؤں کو یقین ہے کہ روہنگیا افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ 1998 اور رواں سال ہونے والی مردم شماری میں شناختی کارڈ نہ ہونے کے سبب انہیں شمار نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے روہنگیا برادری کو شناخت کے بحران کا سامنا ہے۔

سبزی فروش ایک بزرگ
سبزی فروش ایک بزرگ

کراچی میں بنگالی اور برمی پناہ گزینوں کی آمد 80ء کے عشرے میں شروع ہوئی تھی جو 1998ء کے آخر تک جاری رہی۔

غیر قانونی پناہ گزینوں پر کام کرنے والے وکیل ضیا احمد اعوان کے مطابق ’’سابق صدر ضیا الحق کی حکومت میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کے بارے میں آزادانہ پالیسی اپنائی گئی انہیں ریزیڈنس پرمٹ دئیے گئے جس کی وجہ سے ہزاروں مہاجرین کراچی آ بسے۔ لیکن، انہیں کبھی شہریت نہیں دی گئی‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG