رسائی کے لنکس

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ میں منگل کی صبح ایک خودکش بمبار نے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ضلع بنوں میں منڈان پولیس تھانے کی بیرونی دیوار سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی۔

پولیس کے مطابق حفاظت پر مامور ایک اہلکار نے جب تیزی سے گاڑی تھانے کی عمارت کی جانب بڑھتی ہوئی دیکھی تو اس نے اُسے رکنے کا اشارہ کیا، لیکن جب گاڑی نا رکی تو اہلکار نے اُس پر فائرنگ شروع کر دی جس سے خودکش بمبار تھانے کے مرکزی دروازے تک نا پہنچ سکا۔

دھماکے سے تھانے کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم جو حصہ زیادہ متاثر ہوا وہاں اُس وقت پولیس اہلکار اور قیدی نہیں تھے۔

پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانے کی حفاظت پر مامور اہلکار کی بروقت کارروائی کے سبب وہ ایک بڑی تباہی سے بچ گئے۔ زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بنوں ضلع قبائلی علاقوں کے قریب واقع ہے اور یہاں ماضی میں عسکریت پسند پولیس اور سکیورٹی فورسز پر مہلک حملے کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ’فاٹا‘ کے قریب واقع صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کولاچی میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تھی جس سے دو افسران سمیت تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے، جس سے ان علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG