رسائی کے لنکس

logo-print

بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے خارج


بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ، فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں نیوزکانفرنس میں بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ان دونوں کے نام ای سی ایل سے نکال دیے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نظرثانی کمیٹی کو ای سی ایل میں ڈالے گئے 172 ناموں کا دوبارہ جائزہ لینےکا کہا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعلیٰ سندھ سے متعلق کہا کہ ای سی ایل میں نام ہونے سے ان کی نقل و حرکت متاثرہو گی، لہذا عدالتی حکم پر بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیب تفتیش کے بعد ان کے نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالوانا چاہے تو یہ کیا جا سکتا ہے۔ نیب کسی کے کہنے پر کسی وزیر کو گرفتار نہیں کرتی۔

نیوز کانفرنس میں شہزاد اکبر نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں جعلی اکاؤنٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ کابینہ کےسامنے پڑھ کر سنایا گیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں سنگین جرائم اور کک بیک کمیشن کا خصوصی طور پر ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کو برقرار رکھنا سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ہے۔ جے آئی ٹی کی یہ رپورٹ فوری طور پر نیب کے پاس جائے گی اور اس ٹیم کے ممبران اب نیب کے ساتھ معاونت کریں گے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ تاثر دیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے گا، لیکن درحقیقیت ایسا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ نیب کو جہاں ضرورت ہو، مزید تحقیقات ہو سکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد، راولپنڈی کی عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ کراچی میں مافیاز کے ہوتے ہوئے آزادانہ کیس نہیں چلایا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے عمل درآمد بینچ نئے چیف جسٹس بنائیں گے جس کے بعد ریفرنس دائر ہونے پر کیس کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا ردعمل

بیرسٹر شہزاد اکبر کی نیوز کانفرنس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سب کو پتہ ہے جے آئی ٹی رپورٹ بنی گالا میں تیار ہوئی۔

انہوں نے سوال کیا کہ شہزاد اکبر کی اپنی ساکھ کیا ہے۔ شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس ہی رپورٹ کو مشکوک بناتی ہے۔ یہ جعلسازی ہی بہت بڑا جرم ہے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ شہزاد اکبر رونی صورت بنا کر قوم کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ عمران خان اداروں کے پیچھے چھپ کر وار کر رہے ہیں۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کا تحریری فیصلہ

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا گیا۔

7 جنوری کو بھی اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

سابق چییف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو کو معاملے میں کیوں ملوث کیا۔، کس کے کہنے پر بلاول کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ بلاول نے پاکستان آ کر کیا کیا۔ وہ معصوم بچہ ہے۔ بلاول صرف اپنی ماں کا مشن آگے بڑھا رہا ہے۔

جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات کے بعد آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔ جس پر وفاقی کابینہ نے تمام نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG