رسائی کے لنکس

logo-print

اپوزیشن نے بلین ٹری سونامی کو فراڈ منصوبہ قرار دے دیا


خیبر پختونخواہ حکومت کی بلین ٹری پراجیکٹ کی ایک سائٹ، فائل فوٹو

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لانے اور جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لیے صوبہ بھر میں ایک ارب سے زیادہ پودے لگانے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک فراڈ منصوبہ قرار دے دیا ہے۔

بلین ٹری منصوبے میں کرپشن کے الزامات کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن ارکان نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کے چار مختلف مقامات کا دورہ کیا، جہاں پر بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت لاکھوں پودے لگانے کا دعوٰی کیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ اکرام خان درانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی سربراہی میں حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے اراکین نے بنوں میں پودے لگانے کی چار مختلف سائٹس کا دورہ کیا جہاں آدھے سے زیادہ پودے غائب پائے گئے۔

اپوزیشن جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون رکن شگفتہ ملک نے بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن اور بے قاعدگیوں کے الزامات لگاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جس پر سپیکر نے تحقیقات کے لیے ایک 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی جس کے 12 ارکان حکومت اور 8 حزب اختلاف سے لیے گئے تھے۔

پارلیمانی کمیٹی نے 25 اپریل کو بنوں میں بلین ٹری سائٹس کے معائنہ کا فیصلہ کیا لیکن حکومتی اراکین نے وہاں جانے سے انکار کر دیا۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ بلین ٹری منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی تھی جسے چھپانے کے لیے محکمہ جنگلات نے ریکارڈ میں جعلسازی کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بنوں کے علاقے نالی چک ماما خیل میں 8 ہزار کنال اراضی پر محکمہ جنگلات کے ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ پودے لگائے گئے لیکن دعوؤں کے برعکس سائٹس پر 90 فیصد سے زیادہ پودے دکھائی نہیں دیے۔

اکرام درانی نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے ریکارڈ میں فی مزدور 15 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی، لیکن وہاں مزدروں سے پوچھنے پر پتا چلا کہ انہیں پانچ سے دس ہزار روپے تک مزدوری دی گئی ہے۔ اسی طرح ریکارڈ کے مطابق پودوں کے دیکھ بھال کے لیے فی پودا 50 روپے روپے رکھے گئے جب کہ محکمہ جنگلات پانچ روپے کے حساب سے ادائیگی کر رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس دورے کے بعد کمیٹی کے ارکان نے بلین ٹری منصوبے کی تمام سائٹس کا معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک سوال کے جوا ب میں اکرام خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم انٹی کرپشن اور نیب سے رجوع نہیں کریں گے بلکہ اس معاملے پر اسمبلی میں آواز اُٹھائیں گے کیونکہ ہمیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہے۔

حزب اختلاف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن محض پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا چونکہ اپوزیشن نے تمام کمیٹیو ں سے استعفیٰ دے دیا تھا، اس لیےحکومت نے یہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیٹیوں سے استعفوں کے بعد اپوزیشن کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اس دورے میں اکرم خان درانی کے ساتھ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سردار یوسف، اے این پی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خوشدل خان اور شگفتہ ملک، مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمان اور ریحانہ اسماعیل اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شیر اعظم وزیر شامل تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG