رسائی کے لنکس

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے قافلے پر خودکش حملہ، ایک ہلاک


وزیر اعلیٰ بلوچستان کے قافلے پر خودکش حملہ، ایک ہلاک
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے قافلے پر خودکش حملہ، ایک ہلاک

کوئٹہ پولیس نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم خان رئیسانی کے قافلے پر منگل کو خودکش حملہ کیاگیا جس سے ایک راہ گیر ہلاک اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہو گئے۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ ملک محمد اقبال کے مطابق وزیر اعلیٰ اپنی رہائش گاہ سے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے اور سریاب ریلوے پھاٹک سے گزرتے ہوئے جب اُن کے قافلے میں شامل گاڑیوں کی رفتار کم ہوئی تو ایک زور دار دھماکا ہوا۔

دھماکے میں وزیر اعلیٰ محفوظ رہے لیکن قافلے میں شامل انسداد دہشت گردی فورس کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (انویسٹی گیشن) حامد شکیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک راہ گیر کے ہلاک اور پانچ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے خودکش حملہ آور کے انسانی عضاملے ہیں۔

جس مقام پر حملہ کیا گیا وہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ اور صوبائی اسمبلی سمیت کئی اہم سرکاری عمارتوں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کسی گروہ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم صوبے میں سرگرم علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں اور دیگر انتہا پسند عناصر ماضی میں ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے آئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے بلوچستان کے گورنر ذوالفقار علی مگسی کے قافلے پر بھی کوئٹہ سے تقریباً 125 کلومیٹر دور قلات کے علاقے میں ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ بم ایک تباہ شدہ آئل ٹینکر میں چھپایا گیا تھا جو گورنر کے قافلے میں شامل جیمرز کی وجہ سے گاڑیوں کے وہاں سے گزرنے کے بعد پھٹا۔

اطلاعات کے مطابق علیحدگی پسند تنظیم ”بلوچستان لبریشن آرمی“ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

XS
SM
MD
LG