رسائی کے لنکس

ملک میں قانون کا احترام مفقود ہو چکا ہے: تجزیہ کار


ملک میں قانون کا احترام مفقود ہو چکا ہے: تجزیہ کار

چیچن باشندوں کی ہلاکت سےمتعلق کوئٹہ کا واقعہ ابھی سرخیوں میں تھا کہ کراچی میں ایک نوجوان رینجرز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے سابق سربراہ اور تجزیہ کار، پروفیسر مہدی حسن اِس واقعے کو ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پیرائے میں دیکھتے ہیں۔

جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہدی حسن نے بتایا کہ 2001ء کے بعد پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی نے ’جَڑ پکڑ لی ہے‘۔اُنھوں نے کہا کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اب ملک میں کوئی شخص اپنےآپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کا احترام مفقود ہو چلا ہے، وردی والوں کو اپنے دائرہٴ کار میں رہنے کی عادت ہے اور نہ ہی شہریوں میں وردی کی عزت یا خوف باقی رہا ہے۔

کراچی سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے بتایا کہ ریجنرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت معاشرے میں تشدد پسندی کا ایک واضح عکس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جِس کے پاس کسی طرح کی بھی کوئی طاقت ہے، ’ چاہے وہ بندوق کی طاقت ہو، پیسے کی طاقت یا کرسی کی طاقت، وہ یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا دوسرے پر ظلم کرنا یا غلط کام کرنا اُس کا حق ہے۔ اُسے پتا ہے کہ وہ بچ نکلے گا۔‘

اُن کے بقول، ’مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ رینجرز اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کررہے ہوں گے، اور سوچ رہے ہوں گے کہ کس طرح اِس معاملے سے نکلا جائے۔‘

معاشرے کو تشدد سے پاک کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اِس بارے میں ہما بقائی کا کہنا تھا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر احتساب کی ایک کثیرجہتی حکمتِ عملی تشکیل دی جائے( تب ہی کہیں حالات میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے)۔

پاکستان کے سابق سکریٹری داخلہ تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ کراچی کا واقعہ افسوس ناک ہے، مگر رینجرز کی تربیت میں شہری آبادی کے اندر قانون کی حکمرانی قائم رکھنے کا ہنر شامل نہیں۔ اُن کے بقول، ’اُنھیں صرف گولی چلانا سکھائی جاتی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرتے ہیں، ملزم کو پکڑنے کے لیے پیچھا کرتے ہیں، پکڑے جانے پر اُسے ہتھ کڑی لگا کر اُس کے خلاف الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ لیکن، اُن کے بقول، جب معاملہ خطرے کی صورتِ حال کو پہنچتا ہے یا ایسی پوزیشن ہوتی ہے جہاں پر وہ سمجھتے ہیں کہ اُس شخص نے واقعی کوئی غلط کام کیا ہے اور وہ بھاگ رہا ہے، بیشک اُس نے ٹیلی فون ہی کیوں نہ چھینا ہو، ایسے میں قانون کا نفاذ کرنے والوں کا فوری ردِ عمل یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ پکڑا نہیں جارہا تو گولی مار دو۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن، اگر رینجرز کا کام ہی گولی چلانا ہے اور مقتدر اداروں اور شخصیات کو اِس بات کا علم ہے، تو تحقیقات کس بات کی؟ اِس سوال کے جواب میں تسنیم نورانی نے بتایا ، کہ نیم فوجی دستے تب استعمال ہوتے ہیں جب معاملہ پولیس کے کنٹرول سے باہر ہو۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نےصحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ مقتول نوجوان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ تاہم، اُس کی ہلاکت خلافِ قانون ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جو کچھ وِڈیو میں دیکھا گیا اُس میں شبہ نہیں کہ رینجرز کے اہل کار کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے، جِن کے خلاف، اُن کے بقول،’ کارروائی ہوگی‘۔ ساتھ ہی، اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ مبینہ طور پر وہ شخص جرائم پیشہ تھا۔

مقتول کے لواحقین اور رینجرز کے ذمہ داران سے اُن کے مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اُس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG