رسائی کے لنکس

وفاقی وزیرخزانہ کی طرف سے ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا دفاع


وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ

پارلیمان میں مالی سال 2011-12ء کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ عبداللہ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اقتصادلی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں ۔

ہفتے کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد سے زائد اضافے پر کہا کہ سلامتی کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں ملکی دفاع کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ”ہمیں جو قربانی دینی پڑرہی ہے تو یہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ “

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو دفاعی بجٹ میں اضافے کی بجائے تعلیم ، صحت اور فلاح عامہ کے دیگر منصوبوں کے لیے زیادہ رقم مختص کرنی چاہیئے تھی۔ اس تنقیدکا جواب دیتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم کے محکمے اب صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں لیکن وفاقی حکومت نے اس کے باوجود آئندہ مالی سال کے بجٹ میں رضا کارانہ طور پر اس مد میں 40 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔

تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ” پاکستان کے سکیورٹی کے معاملات اتنے سنگین ہوتے چلے جار ہے ہیں کہ اس صورت حال میں دفاعی اخراجات میں کمی نہیں کی جاسکتی“۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں 23 لاکھ ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو ٹیکس ادا کر سکتے ہیں اور پہلے مرحلے میں آئندہ تین ماہ کے دوران سات لاکھ افراد کو ٹیکس ادائیگی کے نوٹس جار ی کیے جائیں گے ۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہو گی کہ محصولات کے نظام سمیت دیگر سرکاری محکموں میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے ۔ ”میڈیاآزاد ہے ، عدالتیں آزاد ہیں اور سب سے بڑھ کر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور یہ تمام چیزیں بدعنوانی کو روکنے میں حکومت کی مدد کریں“۔

حفیظ شیخ نے زرعی ٹیکس کے بارے میں کہا کہ ”دستور میں تبدیلی کر دی جائے تو یہ ہی ایک طریقہ کار ہے زرعی ٹیکس کے نفاذ کا، کابینہ کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم گیلانی نے اس بات کا اظہار کیا کہ زراعت پر بھی ویسے ہی منصافانہ انداز میں ٹیکس نافذہونا چاہیئے جیسے اور ٹیکس ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ دستور کے ساتھ چلنا چاہ رہے ہیں“۔
پاکستان کی کارروباری برادی نے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ تیاری سے قبل اُن سے طویل مشاور ت کی لیکن اُن کے بقول صنعت کاروں کی زیادہ تر سفارشات کو بجٹ دستاویز میں شامل نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعت کاروں کو مراعات دی جائیں اور اس کے لیے کئی اہم اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کم کرکے 16فیصد کرنے ، اسیپشل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں رعایت شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG