رسائی کے لنکس

logo-print

'آبی ذخائر قومی بقا کے لیے ناگزیر ہیں'


فائل

پانی کی شدید قلت کے خدشے سے دوچار ملک پاکستان اپنے دریاؤں کے دس فیصد پانی ہی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ ہر سال بڑی مقدار میں پانی ضائع چلا جاتا ہے۔

یہ بات ایک قانون ساز کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر برائے آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے قومی اسمبلی میں بتائی جو کہ ملک میں آبی ذخائر کی اشد ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملک کے موجودہ آبی ذخائر سالانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کہ سالانہ آبی بہاؤ کا صرف دس فیصد بنتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی، زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی طلب میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جس کے تناظر میں ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر نئے آبی ذخائر تعمیر نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ اس زرعی ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں پانی ذخیرے کرنے کے 26 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن میں سے صرف دو ہی رواں مالی سال کے دوران مکمل ہوں گے جب کہ چھ منصوبے 2020ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

پانی و بجلی کی وزارت کے سابق سیکرٹری اور آبی وسائل کے امور کے ماہر، مرزا حامد حسن کہتے ہیں کہ پاکستان کو پانی کی قلت کے لاحق خطرات اس قدر سنگین ہیں کہ اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

منگل کو ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کے نہ بننے کی ایک بڑی وجہ مختلف سیاسی اختلافات ہیں اور سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

بقول اُن کے، "آبی ذخائر تو ہماری بقا کا مسئلہ ہے اور لوگوں کو یہ بات سمجھانی پڑے گی؛ جن کو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سیاستدانوں نے بہکایا ہوا ہے یہ کہہ کر کہ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں اور یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا تو بات یہ ہے کہ ذخیرے کے بغیر ہمارا گزارا مشکل ہے اور ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم مزید ذخائر بنائیں۔۔۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ پوری قوم کے مفاد میں ہے کسی ایک صوبے کے مفاد میں نہیں۔"

آبی ذخیرے کے لیے ایک بہت بڑا مجوزہ منصوبہ کالاباغ ڈیم کا ہے جس پر کئی دہائیوں سے اس بنا پر پیش رفت نہیں ہو سکی، کیونکہ بعض سیاسی جماعتوں کے خیال میں اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگ متاثر ہوں گے اور اس کا فائدہ کسی ایک صوبے کو پہنچے گا۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستان کی پہلی آبی پالیسی منظور کی گئی تھی جس میں پانی کے استعمال کی ترجیحات طے کرنے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور پانی کے ذخائر تعمیر کرنے سمیت مختلف امور کو شامل کیا گیا۔

لیکن، مرزا حامد حسن کہتے ہیں کہ گو کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پہلی دفعہ تمام صوبے ایک پالیسی پر متفق ہوئے ہیں، لیکن اس پالیسی پر کب اور کتنا عمل ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

اسی دوران پاکستان اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف سے نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں ان دریاؤں پر کشن گنگا ڈیم بنانے کا معاملہ بھی عالمی بینک کے سامنے لے کر گیا ہے جن کے پانی پر ایک باہمی آبی معاہدے کے تحت زیادہ حق پاکستان کا ہے۔

اس ڈیم پر شروع ہی سے پاکستان یہ کہہ کر معترض رہا کہ اس سے پاکستانی کے لیے آبی بہاؤ میں کمی واقع ہوگی جس سے اس کی زراعت شدید مثاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن، بھارت کا استدلال ہے کہ وہ آبی بہاؤ میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا اور صرف اپنے حصے کے پانی کو استعمال میں لا کر توانائی پیدا کرے گا۔

عالمی بینک ان دونوں ملکوں کے درمیان پانچ دہائیاں قبل ہونے والے سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے۔

سابق سیکرٹری پانی و بجلی مرزا حامد حسن کے خیال میں اب چونکہ بھارت یہ ڈیم بنا چکا ہے۔ لہذا، پاکستان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ آئندہ کے لیے ایسے اصول وضع کروانے پر زور دے جس سے معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG