رسائی کے لنکس

logo-print

ملیحہ لودھی کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟


وزیرِ اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب اور دورہ امریکہ سے واپسی کے صرف ایک دن بعد ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی عہدے سے سبکدوشی کے اقدام کو بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا کر اُن کی جگہ منیر اکرم کو مستقبل مندوب تعینات کردیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی دفترِ خارجہ نے مختلف ممالک میں تعینات سفیروں اور قونصل جنرلز کے بھی تقرر اور تبادلے کیے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور دورۂ امریکہ سے واپسی کے صرف ایک دن بعد ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی سبکدوشی کے اقدام کو مبصرین اور تجزیہ کار بڑا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے پیر کو ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے وزارتِ خارجہ میں نئی تعیناتیوں کی منظوری دی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل برائے اقوامِ متحدہ خلیل احمد ہاشمی کو جنیوا میں مستقل مندوب تعینات کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد اعجاز کو ہنگری، احسن کے کے کو مسقط اور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے ٹورنٹو میں تعینات قونصلر جنرل عمران احمد صدیقی کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں ڈھاکہ میں ہائی کمشنر مقرر کر دیا جب کہ اُن کی جگہ عبدالحمید کو پاکستانی سفارت خانے میں قونصل جنرل تعینات کیا ہے۔

میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک سری لنکا میں ہائی کمشنر بن گئے جب کہ ابرار حسین ہاشمی کو امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

ملیحہ لودھی کی سبکدوشی؟

ملیحہ لودھی کے خلاف سوشل میڈیا پر گزشتہ چند ماہ سے ایک مہم بھی چل رہی تھی جس میں ان کے بیٹے فیصل شیروانی کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ایک بھارتی خاتون بتایا گیا تھا۔ بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیصل شیروانی کی اہلیہ کے خاندان کے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی مراسم ہیں۔

ملیحہ لودھی نے اپنے خلاف چلنے والی اس مہم کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ بعد ازاں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں وہ امریکہ میں ایک تقریب کے دوران ملیحہ لودھی سے ان کی کارکردگی پوچھ رہے تھے اور پاکستانی عملہ اس شخص کو روک رہا تھا۔

اس تناظر میں ملیحہ لودھی کی غیر متوقع سبکدوشی نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر کئی افراد اس معاملے پر رائے زنی کر رہے ہیں۔

صحافی خرم حسین نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ملیحہ لودھی کو عہدے سے اس وقت ہٹایا گیا جب (عمران خان کے) دورے کو کامیاب قرار دیا جا رہا تھا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میں معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔

ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد مختلف سابق سفارت کاروں نے انہیں بہترین سفارت کار قرار دیا ہے۔

تجزیہ کار نجم رفیق کہتے ہیں کہ ملیحہ لودھی کو ان کی تعیناتی کا وقت مکمل ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ ان کے بقول ملیحہ لودھی کو بہترین سفارت کار مانا جاتا ہے اور ان کی جگہ منیر اکرم کو لانا معمول کی بات ہے۔

سینئر صحافی شاہین صہبائی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ملیحہ لودھی پر الزام عائد کیا کہ وہ سینئرز اور جونیئرز کا احترام نہیں کرتیں اور بہت زیادہ اپنی ذات میں گم رہنے والی خاتون ہیں۔

ملیحہ لودھی پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ بعض افراد نے ان کی تعریف بھی کی ہے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں ملیحہ لودھی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے بہت بااعتماد اور قابلِ احترام انداز میں ملک کی نمائندگی کی۔

سابق سفیر عاقل ندیم کہتے ہیں کہ ملیحہ لودھی کو دفترِ خارجہ میں بہت زیادہ تجربہ کار سمجھا جاتا ہے اور شاید انہیں کوئی اور اہم ذمہ داری سونپی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملیحہ لودھی کی تعیناتی کی مدت رواں سال فروری میں مکمل ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں توسیع دی گئی تھی۔

عاقل ندیم نے بتایا کہ ملیحہ لودھی کی تعیناتی میں توسیع کی مدت بھی گزشتہ ماہ مکمل ہو گئی تھی جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس تک کام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر میلحہ لودھی کو ان کے عہدے سے فارغ کرنا مقصود ہوتا تو وزیرِ اعطم عمران خان کی حکومت کو ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ انہیں شروع میں ہی اس عہدے سے ہٹایا جاسکتا تھا۔

سینئر خاتون صحافی ماریانہ بابر کا کہنا ہے ملیحہ لودھی خود اپنا عہدہ چھوڑنا چاہ رہی تھیں۔ اس لیے اگر انہیں ہٹانا مقصود تھا تو اس کا اعلان انہیں خود کرنے دینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں ملیحہ لودھی کے اچھے کیریئر پر حرف آتا نظر آ رہا ہے۔

خیال رہے کہ ملیحہ لودھی لندن اسکول آف اکنامکس سے فارغ التحصیل ہیں اور وہ پاکستان کے دو بڑے اخبارات کی ایڈیٹر بھی رہ چکی ہیں۔

ملیحہ لودھی نے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی خدمات پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا۔ انہیں پہلی مرتبہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں 1994 میں امریکہ میں پاکستانی سفیر تعینات کیا گیا تھا۔

دوسری بار انہیں 12 اکتوبر 1999 کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والے جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے 1999 سے 2002 تک امریکہ میں سفیر مقرر کیا تھا۔ملیحہ لودھی نے سال 2003 سے 2008 تک لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کے طور پر فرائض بھی سر انجام دیے تھے۔ 2015 میں ان کا تقرر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب کی حیثیت سے کیا گیا تھا اور اب سال 2019 میں فراغت تک وہ اسی عہدے پر کام کر رہی تھیں۔​

منیر اکرم کون ہیں؟

اقوامِ متحدہ میں تعینات ہونے والے نئے مستقل مندوب منیر اکرم سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت 2002 سے 2008 تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اقوامِ متحدہ سے ان کے قتل کی تحقیقات سے متعلق بعض امور پر منیر اکرم کے پیپلز پارٹی کی حکومت سے مبینہ طور پر اختلافات پیدا ہوئے تھے جس کے بعد اُنہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

منیر اکرم کی تعیناتی کے اعلان کے فوراً بعد اُن کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔

سوشل میڈیا پر سال 2003 میں ان کی ایک مبینہ غیر ملکی دوست کی طرف سے ان کے خلاف تشدد کے الزامات کے تحت دائر کیے جانے والے کیس کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کیس میں اُنہیں حاصل سفارتی استثنیٰ کے باعث کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

8 جنوری 2003 کی اپنی اشاعت میں نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پاکستان سے اپنے سفارت کار منیر اکرم سے سفارتی استثنیٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک سٹی کے پراسیکیوٹرز نے ان پر ایک خاتون سے جھگڑا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔​

صحافی طحہ صدیقی نے ان کے اسی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ منیر اکرم جنگ کو بڑھاوا دینے والوں میں سے ہیں اور ان کا 'ڈان' اخبار میں چھپنے والا ہفتہ وار کالم نفرت انگیز ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG