رسائی کے لنکس

افغان حکومت اور طالبان غیر مشروط مذاکرات کریں: پاکستان


مستقبل مندوب ملیحہ لودھی (فائل فوٹو)

پاکستانی مستقبل مندوب کا جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران کہنا تھا کہ ان کا ملک افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی تجویز پیش کرتا رہا ہے۔

پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان غیر مشروط مذاکرات پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مسقبل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی میں افغانستان سے متعلق ہونے والے ایک مذاکراے کے دوران کہا کہ افغان تنازع کا کوئی بھی فریق کسی پر عسکری حل مسلط نہیں کر سکتا اور یہ جنگ مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے اب بھی سکیورٹی فورسز کو مزاحمت کا سامنا ہے اور ملک کے 40 فی صد سے زائد حصے پر کابل حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔

افغان صدر اشرف غنی عسکریت پسندوں کو تشدد کی راہ ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آنے کا کہتے رہے ہیں لیکن طالبان کا موقف ہے کہ ملک سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا تک وہ اپنی مسلح کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس وقت 13 ہزار سے زائد بین الاقوامی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور ان میں اکثریت امریکیوں کی ہے۔ یہ فوجی مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی مستقبل مندوب کا جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران کہنا تھا کہ ان کا ملک افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی تجویز پیش کرتا رہا ہے اور یہ دہائیوں پر محیط اس تنازع کے خاتمے کا سب سے قابل عمل حل ہے۔

ملیحہ لودھی نے طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ تشدد بند کر کے امن کے لیے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انھوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ افغانستان اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان کہتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کی ہر اس کوشش کی حمایت کے عزم پر قائم ہے جو افغان قیادت اور افغانوں کی شمولیت پر مبنی ہو کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چودھری نے مختلف امریکی قانون سازوں سے ملاقاتوں میں کہا تھا کہ امریکہ، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG