رسائی کے لنکس

logo-print

باہمی اعتماد سازی اور رابطوں کے فروغ کی ضرورت پر زور


افغان سفیر زخیلوال اور پاکستانی مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ

پاکستان اور افغانستان کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ باہمی رابطوں اور اعتماد سازی سے ہی دونوں ملکوں میں پائیدار امن اور ترقی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے سنجیدگی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

منگل کو چین، افغانستان اور پاکستان کے مابین سہ فریقی غیر رسمی سفارتکاری کے تحت ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا، جس کا موضوع ’چین، افغانستان، پاکستان: پائیدار ترقی کے لیے تعمیری روابط‘ تھا۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ان کا ملک افغان طالبان کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور دونوں ملکوں کو مل کر افغانستان کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کا مفاد مشترک ہے اور الزام تراشیوں کی بجائے باہمی طور پر ہی اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بقول اُن کے، "بہت سی قربانیاں دینے اور الزام تراشیوں کے باوجود میں یہ اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، افغانستان میں امن کی حمایت کرتا رہے گا، کیونکہ ہمارا مستقبل مشترک ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ طور پر اس صورتحال کو بدلنا ہوگا کوئی اور ہمارے لیے یہ نہیں کرے گا۔"

پاکستانی مشیر کا مزید کہنا تھا کہ چین، افغانستان اور پاکستان افغان امن کے لیے بامقصد مذاکرات کر رہے ہیں اور بامقصد ترقی کے حصول کے لیے بھی بامعنی بات چیت ضروری ہے۔

مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے لیے افغان سفیر عمر زخیلوال نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سی غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کیا جانا ضروری ہے۔

زخیلوال نے کہا کہ "کسی طرح عدم اعتماد بہت گہرا ہو گیا۔ عدم اعتماد کو ختم کرنا ہوگا، گزشتہ دو سالوں سے زائد عرصے میں میں نے بہت سی کوششیں کی پھر کوئی نہ کوئی واقعہ ہوتا اور ہم واپس اسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔۔۔اعتماد سازی کے بغیر کوئی راستہ نہیں اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر صورتحال کو درست کرنا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی ایک اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے ہو چکے ہیں جس سے ماضی کی نسبت صورتحال میں مثبت تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اور انھیں امید ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں مزید رابطے بھی ہوں گے۔

ایک روز قبل ہی نائب افغان وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی سربراہی میں ایک وفد نے اسلام آباد میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ کی زیر قیادت پاکستانی وفد سے مشاورت کی تھی۔

مذاکرے میں چین کے اسلام آباد میں سفیر یاؤ جنگ نے کہا کہ خطے میں سلامتی کی صورتحال بہتر بنائے بغیر حقیقی ترقی و خوشحالی ممکن نہیں اور علاقائی مسائل کا حل علاقائی طور پر ہی نکالنا ہوگا۔

دریں اثنا منگل کو افغان سفیر عمر زخیلوال نے پاکستان کی بَری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں باہمی امور سمیت حالیہ دو طرفہ رابطوں کے تناظر میں آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہٴ خیال کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG