رسائی کے لنکس

logo-print

چترال: سیلاب زدہ علاقوں میں فوج کی امدادی کارروائیاں


اطلاعات کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ضلع کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی پل سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں جس سے بہت سے لوگ اپنے علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں سیلابی ریلوں کے باعث چترال کا دیگر ملحقہ علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ امدادی کاموں میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً بالائی اضلاع میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی شدید بارشیں سیلابی ریلوں کا سبب بنیں۔ اطلاعات کے مطابق چترال میں سیلاب کے باعث کم از کم تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے چترال میں جانی اور مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے۔

امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے اُنھیں منگل کو چترال جانا تھا، لیکن خراب موسم کے باعث یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ضلع کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی پل بہہ گئے ہیں جس سے بہت سے لوگ اپنے علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ بند شاہراہوں کو جلد سے جلد بحال کیا جائے۔

شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث چترال میں بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مدد سے چترال کے متاثرہ علاقوں میں لوگوں تک خوراک پہنچائی گئی جب کہ پانی میں پھنسے 50 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا گیا۔

ادھر پنجاب کے جنوبی اضلاع میں دریائے سندھ کی گزر گاہ کے قریب آباد درجنوں کچی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں جبکہ حکومت نے مزید بارشوں کے باعث لوگوں کو وہاں سے نکلنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

پنجاب حکومت نے ممکنہ سیلابی خطرے سے نمٹنے کے لیے امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں، جبکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عہدیداروں کے مطابق دریا کے ساتھ ساتھ وہ زمین جہاں تک پانی باآسانی جا سکتا ہے وہاں موجود بستیوں میں رہنے والوں کی اکثریت کو نکال لیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل جواد اکرم نے کہا کہ صوبے میں صورتحال قابو میں ہے اور اُن کے بقول ابھی تک کہیں سے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیہ میں جو آبادیاں متاثر ہوئی ہیں وہ دریا کی گزر گاہ پر ہی آباد تھیں۔

’’یہ ادھر ادھر بکھری ہوئی کچی آبادیاں ہیں جو دریا کے اندر لوگ رہائش اختیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ سارا سال دریا میں اتنا پانی نہیں ہوتا اور لوگ دریا کی زمین استعمال کرتے ہیں۔ جب پانی اپنے قدرتی بہاؤ سے آتا ہے تو دریا کے اندر رہنے والے، ان کے کچے گھر اور مال مویشی کچھ عرصہ کے لیے متاثر ہوتے ہیں۔ پکی آبادیاں خطرے سے باہر ہیں۔‘‘

موجودہ صورتحال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کی توقع نہیں ہے۔

’’پنجاب کے چاروں دریاؤں راوی، چناب، جہلم اور ستلج کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تربیلا اور اس سے نچلے علاقوں میں سیلاب کی صورتحال کم ہو رہی ہے اور یہ ریلا اگلے تین چار دن میں پنجاب کی حدود سے نکل جائے گا۔‘‘

محکمہ موسمیات کے مطابق اگرچہ ملک بھر میں مون سون کے موسم میں بارشیں معمول سے کچھ کم ہی ہوں گی لیکن بالائی علاقوں میں موسلادھار اور معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ندی نالوں اور دریاؤں میں ظغیانی کا سبب بن سکتی ہیں۔

پاکستان کو مون سون کے موسم میں گزشتہ چند سال سے بدستور سیلابوں کا سامنا ہے۔

2010ء میں غیر متوقع بارشوں کے باعث شمال سے جنوب تک ملک کے وسیع علاقے زیرِ آب آ گئے تھے جس سے 2,000 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG